تاریخ شائع کریں۱۹ آذر ۱۳۹۸ گھنٹہ ۲۰:۱۶
خبر کا کوڈ : 444822

امریکہ نے افغانستان میں جنگ اور خوریزی پر 1 ٹریلین ڈالر خرچ کیے

دو ہزار صفحات پر مشتمل خفیہ دستاویزات میں امریکی فوجی افسروں اور اہلکاروں کے انٹرویوز شامل ہیں جن میں تقریباً سبھی کا کہنا ہے
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے افغان جنگ کے بارے میں خفیہ دستاویزات شائع کردیں جن میں انکشاف ہوا ہے کہ امریکا نے 18 سالہ افغان وار میں حقائق کو عوام سے ہمیشہ چھپایا۔
امریکہ نے افغانستان میں جنگ اور خوریزی پر 1 ٹریلین ڈالر خرچ کیے
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے افغان جنگ کے بارے میں خفیہ دستاویزات شائع کردیں جن میں انکشاف ہوا ہے کہ امریکا نے 18 سالہ افغان وار میں حقائق کو عوام سے ہمیشہ چھپایا۔
دو ہزار صفحات پر مشتمل خفیہ دستاویزات میں امریکی فوجی افسروں اور اہلکاروں کے انٹرویوز شامل ہیں جن میں تقریباً سبھی کا کہنا ہے کہ اس جنگ کے بارے میں وہ ہمیشہ سچ کو چھپا کر یہ اعلانات کرتے رہے کہ وہ جنگ جیت رہے ہیں۔ دستاویزات کے مطابق اس جنگ پر ایک ٹریلین امریکی ڈالر خرچ ہوئے، خواتین سمیت 2300 فوجی ہلاک اور 20 ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔
واشنگٹن پوسٹ نے افغان جنگ کے بارے میں یہ معلومات جنگی اخراجات اور نااہلی کا محاسبہ کرنے والے سرکاری ادارے ’’اسپیشل انسپکٹرجنرل فار افغانستان ری کنسٹرکشن‘‘ سے حاصل کی ہیں۔ یہ معلومات ویت نام جنگ کے بارے میں پینٹاگان کی دستاویزات سے ملتی جلتی ہیں جو ایسے موقع پر سامنے آئی ہیں کہ جب امریکا طالبان کے ساتھ جنگ کے پرامن تصفیے کے لیے دوحا میں مذاکرات کررہا ہے۔
بش اوراوباما کے ادوارمیں سینئر ملٹری ایڈوائزر رہنے والے لیفٹیننٹ جنرل ڈگلس لیوٹ کا اپنے انٹرویوز میں کہنا ہے کہ وہ افغانستان کے بارے میں بنیادی سوجھ بوجھ سے ہی عاری تھے، ہمیں یہ تک پتا نہیں ہوتا تھا کہ ہم کیا کرنے جارہے ہیں۔
ایک افسر کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امریکی فوج اپنے اصل دشمن سے ہی مکمل آگاہ نہیں تھی، ہمارے کمانڈروں کو یہ نہیں بتایا جاتا تھا کہ ہمارے دشمن طالبان ہیں، القاعدہ ہے، داعش ہے یا غیر ملکی جنگجو ہیں یا سی آئی اے کے پے رول پر کام کرنے والے جنگجو سردار ہیں، ہمارے لیے اچھے طالبان کون اور برے کون ہیں اور وہ کہاں رہتے ہیں یا پاکستان ہمارا دوست ہے یا دشمن ہے۔
http://www.taghribnews.com/vdcdxo0oxyt0oj6.432y.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس