تاریخ شائع کریں۱۷ آذر ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۵:۰۴
خبر کا کوڈ : 444572

یمن سے سوڈانی فوج کی واپسی ایک مثبت اقدام ہے

یمن کی اعلی انقلابی کمیٹی کے سربراہ نے یمن سے اپنی فوج واپس بلانے کے سوڈانی وزیراعظم کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔
یمن کی اعلی انقلابی کمیٹی کے سربراہ نے یمن سے اپنی فوج واپس بلانے کے سوڈانی وزیراعظم کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔
یمن سے سوڈانی فوج کی واپسی ایک مثبت اقدام ہے
یمن کی اعلی انقلابی کمیٹی کے سربراہ نے یمن سے اپنی فوج واپس بلانے کے سوڈانی وزیراعظم کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔
یمن کی اعلی انقلابی کمیٹی کے سربراہ محمد علی الحوثی نے یمن سے فوج واپس بلا لینے کے سوڈانی وزیراعظم عبداللہ حمدوک کے بیان کے ردعمل میں کہا ہے  کہ سوڈانی فوج کو واپس بلا لینے کا فیصلہ یمن میں مزید خونریزی کو روکنے میں مددگار ثابت ہوگا - سوڈان کے وزیراعظم عبداللہ حمدوک نے جمعہ کو اس بات کا اعلان کرتے ہوئے کہ سوڈانی فوجیوں کو یمن سے اپنے ملک واپس لوٹ آنا چاہئے کہا تھا کہ یمن کا بحران فوجی طریقے سے نہیں بلکہ سیاسی طریقے اور بات چیت کے ذریعے حل ہوگا اور سوڈان اب اس کے بعد یمن میں اپنے بھائیوں کےساتھ بحران کے پرامن حل میں تعاون کرے گا- یمن کی مسلح افواج کے ترجمان یحیی السریع نے گذشتہ مہینے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ جارح سعودی اتحاد میں شامل یمنی فوج کے آٹھ ہزار فوجی اب تک ہلاک اور زخمی ہوچکے ہیں - یمنی فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ یمن کے رہنماؤں نے جارح سعودی اتحاد میں سوڈان کی شمولیت کو ختم کرانے اور دونوں ملکوں کے تعلقات کو مستحکم بنانے کے لئے سوڈانی عوام کے کردار کو بروئے کار لائے جانے کے بارے میں بات چیت شروع کردی ہے - سعودی عرب نے امریکا، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ملکوں کے ساتھ مل کر مارچ دوہزارپندرہ سے یمن پرجارحیت کا سلسلہ شروع کررکھا ہے جو بدستور جاری ہے - اس وحشیانہ جارحیت میں اب تک دسیوں ہزار یمنی  شہری شہید اور زخمی ہوچکے ہیں جبکہ دسیوں لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں - سعودی عرب یمن پر جارحیت کے لئے مختلف ملکوں کے کرائے کے فوجیوں کو استعمال کررہا ہے جس میں سوڈان بھی شامل ہے -
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس