تاریخ شائع کریں۱۱ آذر ۱۳۹۸ گھنٹہ ۲۱:۰۵
خبر کا کوڈ : 444018

نہج البلاغہ کی نظر میں وحدت کی اہمیت

مولا امیر المومنین علیہ السلام کی مسلمانوں کے درمیان وحدت سے متعلق نظر تمام مسلمانوں کے لیے راہنما اور نمونہ کی حیثیت رکھتی ہے
مولا امیر المومنین علیہ السلام کی مسلمانوں کے درمیان وحدت سے متعلق نظر تمام مسلمانوں کے لیے راہنما اور نمونہ کی حیثیت رکھتی ہے
نہج البلاغہ کی نظر میں وحدت کی اہمیت
نہج البلاغہ کی نظر میں وحدت کی اہمیت
تقریب خبر رساں ایجنسی کے مطابق مسلمانوں میں وحدت کی اہمیت کو فروغ دینے کے عنوان سے علماء اور دانشمندوں کی آراء کو پیش کیا جارہا ہےکیوں کہ دشمن کے مقابلے میں وحدت اور اپنی صفوں میں نظم بہت ہی ضروری ہے اور یہ عالم اسلام کے دلسوز شخصیات کی دلی آرزو ہونے کے ساتھ ساتھ جمہوری اسلامی ایران کا بھی ہدف ہے ۔
لیکن بعض افراد گمان کرتے ہیں کہ وحدت کا مطلب یہ ہے کہ اپنے عقائد سے چشم پوشی کرکے دوسرے مذہب کو اختیار کریا جائے، جو کہ سراسر غلط اور گمراہ کن فکر ہے۔
اس مقدس ہدف کی بنیاد قرآن و سنت ہے جس میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ آس میں تفرقہ ایجاد نہ کریں، کیوں کہ مسلمانوں کے درمیان تفرقہ اللہ کی عنایات میں کمی کا باعث ہے اور مسلمانوں کی ذلت و رسوائی کا سب سے بڑا سبب بھی ہے۔
اگرمسلمانوں کے درمیان مشترکات پر ذرا بھی فکر کی جائے  تو معلوم ہوگا کہ ہمارے درمیان 90٪  اعتقادی اشتراکات پائے جاتے ہیں جس کو سنی و شیعہ دونوں علماء قبول کرتے  ہیں۔
مولا امیر المومنین علیہ السلام کی مسلمانوں کے درمیان وحدت سے متعلق نظر تمام مسلمانوں کے لیے راہنما اور نمونہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ آپ علیہ السلام نے اپنے متعدد خطبات میں مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور وحدت کی اہمیت پر زور دیا ہے اور وحدت کو مسلمانوں کی ترقی اور بقاء کا راز قرار دیا ہے۔
امام علی علیہ السلام نے اپنے ایک خطبے میں رسول اللہ ﷺ کی بعثت کی دلیل بیان کرتے ہوئے فرمایا " اللہ نے وسیلے کے ذریعے لوگوں کے دلوں سے دور کیا ، فتنے کی آگ کو بجھا دیااور امت کے درمیان برادی اور اکوت کے رشتے کو قائم کیا"۔
ایک اور مقام پر امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں " اللہ تعالی اپنے نبی ﷺ کے وسیلے سے امت میں موجود شگاف کو بھر دیا ، مسلمانوں کے دلوں میں محبت اور بھائی چارے کو ایجاد کرکے دلوں مں موجود نفرتوں کو ختم کردیا"
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس