تاریخ شائع کریں۱۱ آذر ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۵:۵۰
خبر کا کوڈ : 443993

برطانیہ کو امریکی صدر کی دُم سے علیحدہ ہوجانا چاہیے

وزیراعظم بورس جانسن کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سب سے بڑا چاپلوس قرار دیتے ہوئے کہا
برطانیہ کی لیبر پارٹی کے رہنما نے کہا ہے کہ برطانیہ کی غیر ملکی امور میں مداخلت اور عراق جنگ میں شامل ہونے کے بعد ملک میں انتہا پسندی کو مزید ہوا ملی۔
برطانیہ کو امریکی صدر کی دُم سے علیحدہ ہوجانا چاہیے
برطانیہ کی لیبر پارٹی کے رہنما نے کہا ہے کہ برطانیہ کی غیر ملکی امور میں مداخلت اور عراق جنگ میں شامل ہونے کے بعد ملک میں انتہا پسندی کو مزید ہوا ملی۔
لندن برج حملے سے متعلق بات کرتے ہوئے لیبر پارٹی کے لیڈر جیرمی کوربن نے برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سب سے بڑا چاپلوس قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی وقت ہے کہ اب برطانیہ کو امریکی صدر کی دُم سے علیحدہ ہوجانا چاہیے۔
جیرمی کوربن کا کہنا تھا کہ برطانوی فوج کی مداخلتوں کی وجہ سے دہشت گردی کے مسائل حل ہونے کے بجائے ان میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ واضح طور پر ناکام ہوچکی ہے اور دنیا اب عراق پر ہونے والے حملے کے نتائج بھگت رہی ہے۔
اپوزیشن ممبر کا کہنا تھا کہ 16 سال قبل میں نے عراق پر حملے اور قبضے کی مخالفت کی تھی، میں نے خبردار کیا تھا کہ اس کی وجہ سے تنازع، نفرت، مصائب اور مایوسی کی جڑ پیدا ہوجائے گی جس کی وجہ سے آئندہ نسلوں کی جنگیں، تنازعات، انتہاپسندی اور مصائب مزید بڑھیں گے اورایسا ہی ہوا اور آج ہم اس کے نتائج میں ہی زندگی گزار رہے ہیں۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس