تاریخ شائع کریں۷ آذر ۱۳۹۸ گھنٹہ ۲۳:۰۵
خبر کا کوڈ : 443649

امریکا نے ایٹمی معاہدے سے نکل کر سلامتی کونسل کی قرارداد کی خلاف ورزی کی ہے

روس کے نائب وزیر خارجہ نے جامع ایٹمی معاہدے پر عمل درآمد میں کمی کے ایران کے اقدام کا دفاع کیا ہے
روس کے نائب وزیر خارجہ نے جامع ایٹمی معاہدے پر عمل درآمد میں کمی کے ایران کے اقدام کا دفاع کیا ہے جبکہ یورپی یونین کے شعبہ خارجی پالیسی کی سربراہ نے ایٹمی معاہدے کے تحفظ کی ضرورت پر ایک بار پھر زور دیا ہے۔
امریکا نے ایٹمی معاہدے سے نکل کر سلامتی کونسل کی قرارداد کی خلاف ورزی کی ہے
روس کے نائب وزیر خارجہ نے جامع ایٹمی معاہدے پر عمل درآمد میں کمی کے ایران کے اقدام کا دفاع کیا ہے جبکہ یورپی یونین کے شعبہ خارجی پالیسی کی سربراہ نے ایٹمی معاہدے کے تحفظ کی ضرورت پر ایک بار پھر زور دیا ہے۔
روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے کہا ہے کہ امریکا کے دباؤ اور اس کی باجگیری کے مقابلے میں ایران کے سامنے ایٹمی معاہدے پر عمل درآمد میں کمی کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ امریکا نے ایٹمی معاہدے سے نکل کے نہ صرف یہ کہ خود اس معاہدے اور سلامتی کونسل کی قرارداد کی صریحی خلاف ورزی کی ہے بلکہ دوسرے ملکوں پر بھی سلامتی کونسل کی قرار داد کی خلاف ورزی کے لئے دباؤ ڈالا ہے۔
سرگئی ریابکوف نے کہا کہ جامع ایٹمی معاہدے سے امریکا کے یک طرفہ طور پر نکلنے کے بعد بھی ایران نے اس معاہدے کی پابندی کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایٹمی معاہدے کے تعلق سے یورپ نے بھی غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے اور اپنے کسی بھی وعدے پر عمل نہیں کیا ۔
دوسری طرف یورپی یونین کے شعبہ خارجہ پالیسی کی سربراہ فیدریکا موگرینی نے ایک بار پھر جامع ایٹمی معاہدے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاہدے کا تحفظ ضروری ہے۔
انھوں نے یورپی پارلیمان سے خطاب میں مزید کہا کہ یورپی یونین بقول ان کے، اب بھی ایٹمی معاہدے کی سفارتی اور سیکورٹی اہمیت پر یقین رکھتی ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین اس معاہدے کے تحفظ کے تعلق سے تمام فریقوں کے درمیان اتفاق رائے اور وحدت کی حفاظت کی کوشش بھی کررہی ہے۔
فیدریکا موگرینی نے ایران میں گزشتہ دنوں رونما ہونے والے بلوے اور تشدد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کا جامع ایٹمی معاہدے سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔
قابل ذکر ہے کہ یورپی یونین کے شعبہ خارجہ پالیسی کی سربراہ فیدریکا موگرینی نے یہ بیان ایسے عالم میں دیا ہے کہ مئی دوہزار اٹھارہ میں امریکا کے جامع ایٹمی معاہدے سے نکلنے کے بعد یورپی فریقوں نے اس معاہدے کو بچانے کے لئے اب تک کوئی موثر عملی قدم نہیں اٹھایا ہے، جبکہ جرمنی، برطانیہ،اور فرانس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ معاہدے سے امریکا کے نکلنے سے ہونے والے نقصان کی تلافی اور ایران کے اقتصادی مفادات کے تحفظ کی ضمانت فراہم کریں گے ۔
جامع ایٹمی معاہدے میں شامل مذکورہ یورپی ملکوں نے امریکا کے مقابلے میں لفظی مزاحمت تو کی ہے لیکن معاہدے کو بچانے کے لئے اپنے کسی بھی وعدے پر عمل نہیں کیا ہے ۔
امریکا کے معاہدے سے نکل جانے کے بعد ایران نے یورپی وعدوں کی تکمیل کا، ایک سال تک انتظار کیا اور پھر معاہدے کی شق نمبر چھبیس اور چھتیس کے مطابق ، اس معاہدے پر عمل درآمد میں کمی کا مرحلے وار آغاز کردیا ۔ ایران اب تک اس سلسلے میں چار مراحل انجام دے چکا ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران نے اسی کے ساتھ اعلان کیا ہے کہ معاہدے کے دیگر فریقوں بالخصوص یورپ کی جانب سے اپنے وعدووں پر عمل درآمد کی صورت میں وہ نہ صرف یہ کہ معاہدے پر عمل درآمد میں کمی کاسلسلہ روک دے گا بلکہ بہت تیزی کے ساتھ پہلی والی حالت پر واپس چلا جائے گا۔
یاد رہے کہ ایٹمی معاہدے کی شق نمبر چھبیس اور چھتیس کے مطابق ایران کو یہ حق حاصل ہے کہ اگر معاہدے کا کوئی دوسرا فریق اس پر عمل نہ کرے تو وہ بھی جزوی یا مکمل طورپر اس پر عمل درآمد روک دے ۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس