تاریخ شائع کریں۷ آذر ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۵:۲۹
خبر کا کوڈ : 443618

جنرل قمرجاوید باجوہ کی مدت ملازمت توسیع معمہ بن گئی

آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کی مدت ملازمت کے خلاف درخواست پر سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ سماعت کر رہا ہے۔
آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کی مدت ملازمت کے خلاف درخواست پر سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ سماعت کر رہا ہے۔
جنرل قمرجاوید باجوہ کی مدت ملازمت توسیع معمہ بن گئی
آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کی مدت ملازمت کے خلاف درخواست پر سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ سماعت کر رہا ہے۔عدالت نے حکومت کو قانونی پیچیدگیاں دور کرنے کے لیے آج تک کی مہلت دی تھی۔
پاکستانی میڈیا کے مطابق عدالت نے جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف کی پنشن سمیت دیگر تفصیلات بھی طلب کی ہیں جب کہ جنرل ریٹائرڈ اشفاق پرویز کیانی کی توسیع کی دستاویزات بھی طلب کی گئی ہیں۔
اٹارنی جنرل منصورعلی خان نے عدالت کو بتایا کہ دستاویزات کچھ دیر میں پہنچ جائیں گی۔ انہوں نے بینچ کو آگاہ کیا کہ آرٹیکل 243 کےتحت آرمی چیف کی دوبارہ تعیناتی کردی گئی ہے۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آج ہونے والی تعیناتی پہلے سے کیسے مختلف ہے؟ حکومتی وکیل نے بتایا کہ نئی تعیناتی آرٹیکل 243 ون بی کے تحت کی گئی ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہمارے سامنے سوال چیف کا ہے، جنرل کا نہیں۔ 243 کے تحت وزیراعظم کے پاس تعیناتی کا اختیار ہے لیکن ہم نے یہاں مدت کا معاملہ دیکھ رہے ہیں۔
انہوں نے استفسار کیا کہ کیا ایک ریٹائرڈ فوجی افسر کو آرمی چیف مقرر کیا جا سکتا ہے؟ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم پہلے قانون کو دیکھیں گے، ہمارے سامنے شخصیت نہیں قانون اہم ہے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کیس کی سماعت کر رہا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ اورجسٹس مظرعالم میاں خیل بھی بینچ میں شامل ہیں۔ پہلے دن کی سماعت میں سپریم کورٹ نے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا حکومتی نوٹیفکیشن معطل کر دیا تھا۔
http://www.taghribnews.com/vdcfymdjcw6djva.k-iw.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس