تاریخ شائع کریں۷ آذر ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۴:۱۱
خبر کا کوڈ : 443609

ایرانی حکومت کا شرپسندوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کرنے کا مطالبہ

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سید عباس موسوی نے نجف اشرف میں ایرانی قونصل خانے پر حملے کی مذمت کی
اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے آج صبح نجف اشرف میں ایرانی قونصل خانے پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے عراق کی حکومت سے شرپسندوں سے سختی سے نمٹنے اور ان کے خلاف سخت ترین کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔
ایرانی حکومت کا شرپسندوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کرنے کا مطالبہ
اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے آج صبح نجف اشرف میں ایرانی قونصل خانے پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے عراق کی حکومت سے شرپسندوں سے سختی سے نمٹنے اور ان کے خلاف سخت ترین کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سید عباس موسوی نے نجف اشرف میں ایرانی قونصل خانے پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے عراق کی حکومت سے کہا کہ وہ اپنی سفارتی ذمہ داریوں پر عمل کرے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے تہران میں تعینات عراقی سفیر کواپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔
عراقی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ اقتصادی صورتحال سے ناراض احتجاجیوں کے روپ میں چند شرپسندوں نے عراق کے شہر نجف اشرف میں ایرانی قونصل خانے پر حملہ کیا اور اس کے بعض حصوں کو آگ لگا دی۔ اس موقع پر ایرانی قونصل خانے کی حفاظت پر مامور سکیورٹی فورسز اور شرپسندوں کے مابین جھڑپیں بھی ہوئیں۔ ایرانی قونصل خانے پر شرپسندوں نے حملہ ایسے میں کیا کہ یہاں پہلے سےکرفیو کا نفاذ تھا۔ اس سے قبل کربلا اور بصرہ میں بھی ایرانی قونصل خانوں پر شرپسندوں نے حملے کئے تھے۔
عراق میں بد امنی پھیلانے والوں کو جنوبی خلیج فارس کے بعض عرب ملکوں کے سفارتخانوں سے مالی امداد دی جاتی ہے۔
تاہم اس ہنگامہ آرائی میں ایرانی قونصل خانے کے عملے کو کسی قسم کا نقصان  نہیں پہنچا۔
عراق میں معاشی مسائل کے حل،  بدعنوانی دور کرنے اور ملک کے سیاسی ڈھانچے میں ضروری اصلاحات کے مطالبات کے تحت عوام کے پر امن مظاہروں کی آڑ میں امریکا، اسرائیل اور ان کے اتحادی علاقے کی بعض رجعت پسند حکومتوں سے وابستہ عناصر اس قسم کے واقعات میں ملوث ہیں۔
عراقی حکام پہلے ہی خبردار کرچکے ہیں کہ بعض خفیہ عناصر ایران اور عراق کے دوستانہ روابط کو خراب کرنا چاہتے ہیں۔ عراقی حکام کا کہنا ہے کہ یہ عناصر، داعش کے خلاف جنگ میں عراق کے ساتھ ایران کے تعاون سے نالاں ہیں اور عراق کی حکومت اور عوام سے داعش کی شکست کا بدلہ لیناچاہتے ہیں۔ گزشتہ چند دنوں کے دوران نا معلوم مسلح افراد نے مختلف عراقی شہروں میں عوام کے مظاہروں کی آڑ میں سرکاری مراکز اور سیکورٹی دستوں پر بھی حملے کئے ہیں۔
یاد رہے کہ بغداد، بصرہ، کربلائے معلی اور بعض دیگر صوبوں میں عوام بے روزگاری، بدعنوانی، اقتصادی بدحالی اور صحت عامہ نیز دیگر عمومی خدمات کی صورتحال مناسب نہ ہونے کے خلاف مظاہرے کررہے ہیں۔ اس دوران اغیار سے وابستہ عناصر نے بعض شہروں میں عوام کے پر امن مظاہروں کی آڑ میں تخریبی کارروائیاں انجام دیں، حکومتی اور عوامی املاک کو نقصان پہنچایا اور مظاہرین نیز سیکورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کرکے عوام کے پرامن مظاہروں کو تشدد اور بلوے میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جس کے دوران بہت سے افراد جاں بحق اور زخمی ہوگئے۔ 
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس