تاریخ شائع کریں۳ آذر ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۸:۰۴
خبر کا کوڈ : 443282

ایران مخالف منامہ اجلاس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے وزیر ٹیلی مواصلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے خلاف امریکی پابندیوں کی مذمت کی ہے۔
امریکی وزارت خزانہ نے جمعے کے روز پابندیوں کی لت جاری رکھتے ہوئے ایران کے وزیر ٹیلی مواصلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی آذری جہرمی کا نام بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کردیا ہے۔وزارت خارجہ ایران کے ترجمان سید عباس موسوی نے کہا
ایران مخالف منامہ اجلاس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے وزیر ٹیلی مواصلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے خلاف امریکی پابندیوں کی مذمت کی ہے۔
امریکی وزارت خزانہ نے جمعے کے روز پابندیوں کی لت جاری رکھتے ہوئے ایران کے وزیر ٹیلی مواصلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی آذری جہرمی کا نام بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کردیا ہے۔وزارت خارجہ ایران کے ترجمان سید عباس موسوی نے کہا ہے ساری دنیا جانتی ہے کہ موجودہ امریکی حکومت نہ تو جمہوری اصولوں اور اقدار، ٹرانسپرنسی اور انسانی حقوق کا احترام کرتی ہے نہ دوسروں کے لیے انٹرنیٹ کی آزادی پر یقین رکھتی ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ٹوئیٹر سمیت سماجی رابطوں کی دیگر ویب سائٹس چلانے والوں پر حکومت امریکہ کی جانب سے ڈالا جانا والا دباؤ اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ سائبر اسپیس کی آزادی کو سیاسی محرکات کے لیے بطور ہتھکنڈہ استعمال کر رہی ہے۔
دوسری جانب ایران کے وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل امیر حاتمی نے تہران میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں ہونے والے حالیہ مظاہروں نے دشمن پر ثابت کردیا ہے کہ ایران کے عوام بیرونی طاقتوں کو اپنے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔انہوں نے کہا کہ پابندیوں میں بدامنی کا اضافہ کرنے کی کوشش کرنے والے عناصر کو ایرانی عوام کے ہاتھوں سنگین شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس