تاریخ شائع کریں۲۵ آبان ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۸:۵۸
خبر کا کوڈ : 442946

امت اسلامی کی ناموس کے دفاع کے لیے کسی فتوے کے ضرورت نہیں

عالم اسلام کی ترقی میں "فقہ مقاومت" کے اہم ترین کردار کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے اجلاس کا قیام کیا گیا
حکومت اسلامی کو استقامت پر بھرپور توجہ دینی چاہیے اور قرآن و سنت کی روشنی میں اسلامی معاشرے میں اس کی ترویج کے لیے خاطر خواہ اقدامات کیے جانے چاہیے۔
امت اسلامی کی ناموس کے دفاع کے لیے کسی فتوے کے ضرورت نہیں
امت اسلامی کی ناموس کے دفاع کے لیے کسی فتوے کے ضرورت نہیں
تقریب خبر رساں ایجنسی کے مطابق ۳۳ویں بین الاقوامی وحدت کانفرنس میں عالم اسلام کی ترقی میں "فقہ مقاومت" کے اہم ترین کردار کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے اجلاس کا قیام کیا گیا، اس اجلاس میں فقہ مقاومت" کمیشن تشکیل دیا گیا۔ یہ کمیشن قرآن اور سنت کی روشنی میں فقہ کی مختلف ابعاد اور جھات کا جائزہ لے گا۔
حکومت اسلامی کو استقامت پر بھرپور توجہ دینی چاہیے اور قرآن و سنت کی روشنی میں اسلامی معاشرے میں اس کی ترویج کے لیے خاطر خواہ اقدامات کیے جانے چاہیے۔
آٰیت اللہ اراکی نے بھی اجلاس سے خطاب کیا اور کہا، آج وقت ہم سے تقاضہ کرتا ہے کہ دین کی ترویج اور تبلیغ کے لیے جھادی بنیادوں پر عمل کریں اور اسلامی ثقافت کو اجاگر کرنے میں اپنی مثبت کردار ادا کریں۔
"علامہ فرفوز"  اس موقع پر کہا، مقاوت کی شرعی حیثیت ، جہاد کی حیثیت کی طرح ہے جس قرآن کریم میں اللہ تبارک و تعالی نے جھاد کی اہمیت پر زور دیا ہے ہمیں استقامت اور مقاومت کو بھی اہمیت دینی چاہیے۔
شیخ سعید قاسم نے کہا، ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے جوانوں کو موجودہ دور کے فتنوں اوردشمن کی سازشوں سے آگاہ کریں۔ تاکہ جوان خود کو میدان عمل قرار دیں اور عالم اسلام کی خدمت مین پیش پیش رہیں۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس