تاریخ شائع کریں۲۵ آبان ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۸:۰۸
خبر کا کوڈ : 442940

غزہ پر صہیونی فوج کے حملے پر مجاھدین کی جانب سے منہ توڑ جواب

غزہ کے خلاف منگل سے شروع ہونے والی صیہونی جارحیت میں شہید ہونے والوں کی تعداد بتیس ہوگئی ہے۔
غزہ کے خلاف منگل سے شروع ہونے والی صیہونی جارحیت میں شہید ہونے والوں کی تعداد بتیس ہوگئی ہے۔غزہ پر صیہونی فوج کے حملوں میں جمعرات کی صبح کو ایک ہی گھرانے کے چھے فلسطینی شہید ہوگئے ۔
غزہ پر صہیونی فوج کے حملے پر مجاھدین کی جانب سے منہ توڑ جواب
غزہ کے خلاف منگل سے شروع ہونے والی صیہونی جارحیت میں شہید ہونے والوں کی تعداد بتیس ہوگئی ہے۔
غزہ پر صیہونی فوج کے حملوں میں جمعرات کی صبح کو ایک ہی گھرانے کے چھے فلسطینی شہید ہوگئے ۔
ان حملوں میں بارہ افراد زخمی بھی ہوگئے۔صیہونی حکومت نے منگل کی صبح سے غزہ پر ایک بار پھر اپنے وحشیانہ حملوں کا آغاز کیاہے۔
ان حملوں میں اب تک کم از کم بتیس فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جن میں تحریک جہاد اسلامی کی قدس بریگیڈ کےکمانڈر بہا ابوالعطا بھی شامل ہیں جبکہ سو سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
فلسطینی مزاحمتی تنظیمیوں کے مشترکہ آپریشن روم کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا اور صہیونی حکومت کو ایسا سبق سکھائیں گے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملے گی۔
بیان کے مطابق فلسطینی تنظیموں نے مشترکہ حکمت عملی تیار کر لی ہے اور تمام تنظیموں کے فوجی بازو مل کر قوم کا دفاع کریں گے اور صیہونیوں کو فلسطینیوں کے قتل عام کی اجازت نہیں دیں گے۔ 
ادھر حماس کے سربراہ ڈاکٹر اسما‏علی ہینہ نے بھی نے اپنے بیان میں یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ اسرائیل کی دہشت گردی فلسطین کے مجاہد گروہوں کو فلسطینی کاز سے پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کرسکتی۔ 
دوسری جانب فلسطینیوں کی بہت بڑی تعداد نے رام اللہ میں مظاہرہ کرکے غزہ میں اسرائیل کے دہشت گردانہ حملے کی مذمت اور عالمی اداروں سے صیہونی جارحیت بند کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ 
نابلس میں بھی فلسطینیوں کی بڑی تعداد نے اسرائیلی جارحیت اور دہشت گردی کے خلاف مظاہرے کیے ہیں۔ 
درایں اثنا سینیر عرب تجزیہ نگار اور رای الیوم کے چیف ایڈیٹر عبدالباری عطوان نے حکومت مصر سے فلسطینی گروہوں کی حمایت کا مطالبہ کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینی تنظیموں کے ساتھ اب تک ہونے والے امن معاہدوں کی بار بار خلاف ورزی کے تناظر میں، حکومت مصر کی ذمہ داری ہے کہ وہ فلسطینی گروہوں کا ساتھ دے۔ 
عبدالباری عطوان نے لکھا ہے کہ یہ واضح ہے کہ نیتن یاھو غزہ اور دمشق میں جہاد اسلامی فلسطین کے کمانڈروں اور ان کے گھروالوں کے قتل کا اصل ذمہ دار ہے تو پھر مصری حکام کو ثالثی نہیں کرنا چاہئے بلکہ انہیں جرائم کا ارتکاب کرنے اور اپنے انتخاباتی اور ذاتی مفادات کے لیے معاہدے توڑنے والے صیہونی حکام کے مقابلے میں فلسطینیوں کی حمایت کرنا چاہیے۔ 
اقوام متحدہ کےسیکریٹری جنرل آنٹونیو گوترش نے بدھ کی رات صیہونی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزی بند کرے۔ 
اسرائیل دوہزار چھے سے غزہ کا بری، بحری اور فضائی محاصرہ کئے ہوئے ہے اور اس خطے کے لوگ سخت حالات سےدوچارہیں- غزہ پر صیہونی حکومت کے حملوں میں اب تک ہزاروں فلسطینی شہید اور زخمی ہوچکے ہیں۔ 
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس