تاریخ شائع کریں۲۴ آبان ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۵:۲۴
خبر کا کوڈ : 442793

اسرائیل کی نابودی، یعنی فلسطین کے اصلی وارث خود حکومت منتخب کرسکتے ہیں

وحدت کانفرنس کے مہمانوں اور اسلامی ممالک کے سفیروں کی رہبر انقلاب اسلامی سے ملاقات
آیت اللہ خامنہ ای نے اس ملاقات میں رسول مکرم اسلام (ص) اور حضرت امام جعفر صادق (ع) کی ولادت باسعات کی مبارک دیتے ہوئے، عظیم الشان پیغمبر اکرم کو "مجسم قرآن"، قرار دیا
اسرائیل کی نابودی، یعنی فلسطین کے اصلی وارث خود حکومت منتخب کرسکتے ہیں
اسرائیل کی نابودی، یعنی فلسطین کے اصلی وارث خود حکومت منتخب کرسکتے ہیں
وحدت کانفرنس کے مہمانوں اور اسلامی ممالک کے سفیروں کی رہبر انقلاب اسلامی سے ملاقات:
اسرائیل کا محو ہوجانا یعنی فلسطین کے اصلی مالکوں کا حکومت کو منتخب کرنا
رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے آج صبح (جمعہ) نظام کے عہدیداروں، وحدت اسلامی کانفرنس میں شریک ہونے والے مہمانوں، اسلامی ممالک کے سفیروں اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی موجودگی میں، آج جہان اسلام کے مسائل کی وجہ خاص طور سے فلسطین کی افسوس ناک حالت کو اسلامی اتحاد کی کمزوری قرار دیا اور اس بات پر تاکید کی کہ اسرائیل کا صفحہ ہستی مٹ جانا کے صہیونیوں کے بنائے گئے نظام کے ختم ہونے کے معنی میں ہے اور فلسطین کے اصلی مالکوں چاہے وہ مسلمان، مسیحی یا یہودی ہوں کے ذریعے منتخب ہونے والی حکومت کا حاکم ہونا ہے۔
تقریب نیوز ایجنسی کے خبرنگار کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ خامنہ ای نے اس ملاقات میں رسول مکرم اسلام (ص) اور حضرت امام جعفر صادق (ع) کی ولادت باسعات کی مبارک دیتے ہوئے، عظیم الشان پیغمبر اکرم کو "مجسم قرآن"، "پروردگار کی سب سے بڑی اور عظیم مخلوق" اور "اسلامی معاشروں کی حیات اور روشنائی کا نور اور وسیلہ" قرار دیتے ہوئے کہا: بشریت بتدریج ان حقائق کو جان لے گی اور ہم امید کرتے ہیں کہ ایک دن ایسا آئے گا کہ اس مقدس ہستی کے ولادت کے ایام میں، دنیائے اسلام کے لبوں پر مسکراہٹ ہو اور اُن کے لبوں پر غم و اندوہ نہ ہو۔
رہبر انقلاب اسلامی نے اسلامی جمہوری میں ۱۲ سے ۱۷ ربیع ا لاول کو ہفتہ وحدت کے عنوان سے موسوم کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، وحدت کو نہ صرف ایک سیاسی اور ٹیکنیکی حرکت بلکہ "اسلامی امتوں کے اتحاد کی ضرورت پر اعتقاد اور دل سے ایمان رکھنا جانا اور مزیدکہا: اس بنیادی اور اصلی اعتقاد کو، حتی اسلامی جمہوریہ کی تشکیل سے پہلے بھی دنیائے تشیع کے مرجع عالیقد آیت اللہ بروجردی اور دوسری اہم شخصیات کی حمایت حاصل تھی۔
انہوں نے وحدت کے مراتب کو شمار کرتے ہوئے، دنیائے اسلام کے اتحاد میں سب سے پہلا اور نچلا قدم "معاشروں، حکومتوں اور اسلامی مذاہب کو ایک دوسرے پر چڑھائی کرنے اور صدمہ دینے سے پرہیز کرنا" اور "مشترکہ دشمن کے مقابلہ میں اتحاد" کو جانا اور کہا: اوپر والے مراتب میں، اسلامی ممالک کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ علم، دولت، سیکیورٹی اور نئے اسلامی تمدن میں سیاسی طاقت حاصل کرنے کیلئے ہم آہنگی اور کوشش کریں کہ جمہوریہ اسلامی نے بھی اسی نقطہ یعنی نئے اسلامی تمدن تک پہنچنے کو اپنا آخری ہدف قرار دیا ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای نے اسلامی دنیا کے مسائل جیسے فلسطین کا قضیہ اور یمن، مغربی ایشیا اور شما آفریقا میں ہونے والی خونی جنگوں کی وجہ اصل کی مشترکہ دشمن کے مقابلہ میں اتحاد نہ ہونا اور مل کر اس کا مقابلہ نہ کرنے کو جانا اور کہا: آج دنیائے اسلام کی سب سے بڑی مصیبت، فلسطین کا مسئلہ ہے کہ اس قوم کو اپنے گھر اور ملک سے دربدر کردیا ہے۔
انقلاب اسلامی کے رہبر نے نہضت اسلام کے آغاز سے نفوذ  کے خطرے، صہونیزم کی مداخلت اور ظلم، فلسطین کے مسئلہ میں اسلامی جمہوری ایران کا موقف، ان سب باتوں کے بارمیں امام خمینی کے واضح موقف کو قطعی اور قانونی موقف جانا اور کہا: انقلاب اسلامی کے شروع سے لیکر آج تک ھم اسی طرح اس موقف پر باقی ہیں، یعنی ہم نے کسی کا لحاظ رکھے بغیر اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے فسلطین اور فلسطینیوں کی مدد کی اور کرتے رہیں گے اور ہم اس کام کو پوری اسلام دنیا کا وظیفہ سمجھتے ہیں۔
انھوں نے "اسرائیل محو ہوجانے" کے بارے میں امام خمینی اور نظام اسلامی کے مسئولین کی گئی بارہا تاکیدات کو منحرف کرنے کے بارے میں دشمن کی کوشش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہم فلسطین اور اُس کی نجات اور آزادی کے حامی ہیں اور اسرائیل کا محو ہونا یہودی لوگوں کے محو کے معنی میں نہیں ہے، کیونکہ ہمیں اُن سے کوئی سروکار نہیں جس طرح ہمارے ملک میں بھی یہودیوں کی بڑی تعداد مکمل امنیت میں زندگی گزار رہی ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای،  اسرائیل کا محو ہوجانا صہیونی کے مسلط کردہ نظام اور حکومت کی نابودی کے معنی میں ہے، انہوں نے تاکید کی: فلسطینی عوام چاہے وہ مسلمان ہوں، عیسائی ہوں یا یہودی جو اس سرزمین کے اصلی وارث ہیں انہیں اپنی حکومت کو خود انتخاب کرنا چاہیے، اور نیتن یاھو جیسے  اجنبیوں، بدمعاشوں اور اوباشوں کو باہر نکال کر اپنے ملک کو چلائیں کہ البتہ ایسا ہی ہوگا۔
رہبر انقلاب اسلامی نے بات جاری رکھتے ہوئے، امریکا، صہیونی نظام اور وحدت اسلامی کے دشمنوں کی دشمنی کو تمام اسلامی ممالک سے جانا اور مزید کہا: اسلام کی حقیقت، نظم ، استکبار اور تسلط کی نفی کرنا ہے۔ لہذا وہ خود اسلام اور تمام اسلامی ممالک کے مخالف ہں اور یہ تصور کرنا کہ وہ صرف جمہوری اسلامی کے دشمن ہیں، صحیح نہیں ہے۔
 
امریکہ کا یہ کہنا کہ سعودی حکومت کے پاس دولت کے سوا کچھ نہیں ہے یعنی سعودی عرب کو لوٹا جائے، یہ ایک ملک کی توہین اور اس ملک کے ساتھ کھلی دشمنی ہے۔ سعودیوں کو اس بات کا خیال ہونا چاہیے کہ ان کا واسطہ کس کے ساتھ ہیں۔ اپنے ساتھ ہونی والی بے عزتی کو سمجھے اور ملک کی عزت کو امریکہ کی غلامی کے عوض نا بیچے۔ کیوںکہ یہ عمل عرب قوم اور اسلام کی توہین ہے۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے مزید فرمایا، اس وقت امریکہ کا اصلی ترین ہتھیار " ممالک کے فیصلہ کن اداروں میں نفوذ قائم کرنا، مسلمانوں کے درمیان تفرقہ ایجاد کرنا ، قوموں کے درمیان بےاعتمادی ایجاد کرنا، ملکی اداروں کے فیصلوں میں بے جا مداخلت کرنا اور ممالک کو مجبور کرنا کے امریکہ کے پرچم تلے جمع ہوجایئں۔ یہ امریکہ کا خطرناک ترین ہتھیار ہے جو کسی بھی جنگی ہتھیار سے خطرناک ہے۔
انہوں نے مزید کہا ، ان تمام امور کے مقابلے میں استقامت ایک مشکل کام ہے لیکن اس سختی کے مقابلے میں قیام کرنا اللہ تبارک و تعالی کی نظر میں اجر و ثواب رکھتا ہے۔ دوسری جانب دشمن کے سامنے تسلیم ہونے کی صورت میں بھی مشکلات حل نہیں ہوتی۔ بلکہ ان میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ جو بھی ظالم کا ساتھ دے اللہ اس کو سخت عذاب میں مبتلاء کرے گا۔
پُر امن ایٹمی پروگرام ہر ملک کی اشد ضرورتوں میں سے ایک ہے۔ لیکن مغربی ممالک یہ چاہتے ہیں کہ یہ انرجی صرف صرف ان تک ہی محدود رہے جبکہ دیگر قومیں اس کے حصول میں ان کی محتاج بنی رہیں اور یہ بھیک کی صورت میں ان کو یہ انرجی فراہم کریں۔
مغربی ممالک اس بات کو بہت ہی اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم ایٹمی ہتھیار بنانے میں بلکل بھی دلچسپی نہیں رکھتے اور یہ ہمارے مذہبی اعتقادات کے خلاف ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ نہیں چاہتے کہ ہم ایٹمی توانائی حاصل کریں اور صنعتی و پیداواری میدان میں ترقی کرے۔
آپ نے فرمایا، دشمن سے بلکل بھی خوفزدہ نا ہو اور اس کا مقابلہ کریں اور جان لیں کہ اللہ کے فضل سے مسلمانوں کا مستقبل روشن ہے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس