تاریخ شائع کریں۲۳ آبان ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۵:۲۷
خبر کا کوڈ : 442703

مسجد اقصی تمام قوموں اور اسلامی ممالک کیلئے وحدت کا باعث ہے

مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے اتحاد، مختلف اسلامی مذاہب کے درمیان اختلافات کو کم کرسکتا ہے
مختلف اسلامی مذاہب کے درمیان جو اختلافات اور تناؤ پیدا ہوگیا ہے اس کو مدنظر رکھتے ہوئے، ان مذاہب کے مشترکہ نقاط کو زیادہ اجاگر کرنا چاہیے  خاص طور سے مسجد اقصی تمام قوموں اور اسلامی ممالک کیلئے اہمیت ہے۔
مسجد اقصی تمام قوموں اور اسلامی ممالک کیلئے وحدت کا باعث ہے
مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے اتحاد، مختلف اسلامی مذاہب کے درمیان اختلافات کو کم کرسکتا ہے
برونائی میں ایران کی سفیر نے کہا: مختلف اسلامی مذاہب کے درمیان جو اختلافات اور تناؤ پیدا ہوگیا ہے اس کو مدنظر رکھتے ہوئے، ان مذاہب کے مشترکہ نقاط کو زیادہ اجاگر کرنا چاہیے  خاص طور سے مسجد اقصی تمام قوموں اور اسلامی ممالک کیلئے اہمیت ہے۔
حمیرا ریگی، برونائی میں ایران کی سفیر نے ۳۳ ویں بین الاقوامی وحدت اسلامی کانفرنس میں تقریب نیوز ایجنسی کے خبرنگار سے گفتگو کرتے ہوئے اظہار خیال کیا: دنیائے اسلام میں اہم ترین نکتہ کہ جس کے درپے رہنا چاہیے وہ فلسطین کے دفاع کا مسئلہ ہے۔
انھوں نے مزید کہا: دنیائے اسلام میں جیسے پیغمبر (ص)، قرآن اور قبلہ یہ سب مشترکہ اور وحدت کے نقاط ہیں، اسی طرح مسجد الاقصی کو بھی اسلامی ممالک کے درمیان ایک مشترک نقطہ قرار دیا جاسکتا ہے۔
ریگی نے یہ بیان کرتے ہوئے مزید کہا: یہ کانفرنس اہم شخصیات کے حاضر ہونے کیلئے بہترین جگہ ہے تاکہ انہیں پتہ چلے کہ اسلامی جمہوریہ ایران ۴۰ سال سے فلسطین کے مظلوم لوگوں کی فکر میں ہے اور ہمیشہ سے پوری دنیا کے مظلوم اور کمزور مسلمانوں کی حمایت کر رہا ہے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس