تاریخ شائع کریں۲۲ آبان ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۵:۲۱
خبر کا کوڈ : 442592

اسرائیل کی جارحیت کے نتیجے میں کئی معصوم و بے گناہ شہری شہید

غزہ پر منگل سے شروع ہونے والی صیہونی حکومت کی فضائی جارحیت میں شہید ہونے والوں کی تعداد بارہ ہوگئی ہے
غزہ پر منگل سے شروع ہونے والی صیہونی حکومت کی فضائی جارحیت میں شہید ہونے والوں کی تعداد بارہ ہوگئی ہے
اسرائیل کی جارحیت کے نتیجے میں کئی معصوم و بے گناہ شہری شہید
غزہ پر منگل سے شروع ہونے والی صیہونی حکومت کی فضائی جارحیت میں شہید ہونے والوں کی تعداد بارہ ہوگئی ہے ۔ جبکہ فلسطینی تنظیموں نے اس جارحیت کے جواب میں صیہونی حکومت کے زیر قبضہ علاقوں پر دو سو سے زائد راکٹ اور میزائل فائر کئے ہیں جس کے نتیجے میں پورے اسرائیل میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور سبھی اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں چھٹی کردی گئی ہے۔
غزہ سے موصولہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جہاد اسلامی فلسطین کی فوجی شاخ القدس بریگیڈ کے ایک اور کمانڈر خالد معوض فراج ، صیہونی فوج کے فضائی حملے میں شہید ہوگئے ہیں۔اس سے پہلے منگل سے شروع ہونے والی غاصب صیہونی حکومت کی فضائی جارحیت میں جہاد اسلامی فلسطین کے کمانڈر بہا ابوالعطا اور ان کی اہلیہ سمیت گیارہ فلسطینیوں کے شہید ہونے کی خبر دی گئی تھی ۔فلسطینی ذرائع نے بتایا ہے کہ صیہونی حکومت کے جنگی طیاروں نے رفح کے شمال مشرق میں واقع النصر نامی گاؤں کے رہائشی علاقوں پر بھی بمباری کی ہے۔صیہونی بمبار طیاروں نے اسی طرح جنوبی غزہ کے علاقے القرارہ اور شہر خان یونس کے مغرب میں تحریک استقامت فلسطین کے ایک مرکز پر بھی بمباری کی ہے۔منگل سے شروع ہونی والےصیہونی حکومت کے ان حملوں میں مجموعی طور پر بارہ فلسطینی شہید اور تیئس بچوں سمیت پینتالیس افراد زخمی ہوچکے ہیں۔غاصب صیہونی حکومت کی اس جارحیت کے جواب میں جہادی فلسطینی گروہوں نے صیہونی حکومت کے فوجی مراکز، اہم تنصیبات اور غیر قانونی صیہونی کالونیوں پر راکٹوں اور میزائلوں کی بارش کردی ہے۔صیہونی ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ مزاحمتی فلسطینی تنظیموں کے میزائلی حملوں میں درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے اکتالیس کو شہر عسقلان کے برزیلائے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے ۔یاد رہے کہ غزہ پر صیہونی جارحیت اور فلسطینیوں کے جوابی میزائلی حملوں کا یہ سلسلہ منگل کو جہاد اسلامی فلسطین کے ایک کمانڈر ابوالعطا کے گھر پر صیہونی بمباری سے شروع ہوا جس میں ابوالعطا اپنی اہلیہ کے ساتھ شہید اور ان کے دو بچوں سمیت تین افراد زخمی ہوگئے۔صیہونی ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ جہاد اسلامی کے کمانڈر ابوالعطا کو شہید کرنے کا فیصلہ ، اسرائیل کے خلاف فلسطین کے میزائلی حملوں میں ان کے کردار کے پیش نظر کیا گیا تھا۔صیہونی حکومت کے ذرائع ابلاغ نے یہ دعوی ایسی حالت میں کیا ہے کہ حالیہ ہفتوں کے دوان جہادی فلسطینی تنظیموں اور اسرائیلی فوج کے درمیان کوئی تصادم نہیں ہوا تھا۔صیہونی ذرائع نے یہ دعوی صرف اس بات کے پیش نظر کیا ہے کہ فلسطین ، صیہونی حکومت کی اس جارحیت کے خلاف بین الاقوامی اداروں میں آواز اٹھاسکتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جہاد اسلامی فلسطین کے کمانڈر ابوالعطا کو شہید کرنےکے لئے ان کے گھر پر فضائی حملہ منصوبہ بندی کے ساتھ کیا گیا۔چنانچہ صیہونی حکومت کے وزیر اعظم بن یامین نتین یاہو نے اعتراف کیا ہے کہ دس دن قبل اسرائیلی کابینہ کی میٹنگ میں اس حملے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ بنابریں یہ حملہ صیہونی حکومت کی ریاستی دہشت گردی کا تسلسل ہے۔دوسری جانب سے غاصب صیہونی حکومت کی وحشیانہ جارحیت کا تازہ سلسلہ شروع ہونے کے بعد فلسطینی تنظیمیں دو سو سے زائد راکٹ اور میزائل صیہونی اہداف کی جانب فائر کرچکی ہیں۔ ان راکٹی اور میزائلی حملوں میں پچاس سے زائدصیہونیوں کے زخمی ہونے کے ساتھ ہی پورے مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر ایسا خوف و ہراس طاری ہوا ہے کہ دو ہزار چودہ کے بعد پہلی بار صیہونی حکومت کے عمومی خدمات کے سبھی مراکز اور تعلیمی اداروں میں چھٹی کردی گئی ہے۔ صیہونی ذرا‏ئع نے بتایا ہے کہ دس لاکھ اسرائیلی طلبا اور اسّی ہزار اساتذہ نے فلسطینی تنظیموں کے میزائلی حملوں کے خوف سے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں جانے سے گریز کیا ہے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس