تاریخ شائع کریں۲۱ آبان ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۴:۳۱
خبر کا کوڈ : 442469

نکی ہیلی کی صدر ٹرمپ کی شخصیت پر کتاب منظر عام پر آگئی

نکی ہیلی نے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے دو اہم مشیروں نے ان سے کہا تھا کہ وہ صدر ٹرمپ کے احکامات نہ مانیں۔
نکی ہیلی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ اُس وقت کے وائٹ ہاؤس میں چیف آف سٹاف جان کیلی اور وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے ان سے کہا تھا کہ وہ ٹرمپ کے بعض مطالبات کے خلاف مزاحمت کریں۔
نکی ہیلی کی صدر ٹرمپ کی شخصیت پر کتاب منظر عام پر آگئی
نکی ہیلی نے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے دو اہم مشیروں نے ان سے کہا تھا کہ وہ صدر ٹرمپ کے احکامات نہ مانیں۔
اقوام متحدہ میں امریکہ کی سابق سفیر نکی ہیلی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ اُس وقت کے وائٹ ہاؤس میں چیف آف سٹاف جان کیلی اور وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے ان سے کہا تھا کہ وہ ٹرمپ کے بعض مطالبات کے خلاف مزاحمت کریں۔ نکی ہیلی کا مزید کہنا ہے کہ ریکس ٹیلرسن نے ان سے کہا کہ اگر صدر ٹرمپ کو لگام نہ ڈالی گئی تو لوگ مریں گے۔ نکی ہیلی کہتی ہیں کہ انہوں نے ریکس ٹیلرسن اور جان کیلی کے مشوروں پر عملدرآمد نہ کرتے ہوئے انہیں مسترد کر دیا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے سابق امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کو مارچ دوہزار اٹھارہ میں ان کے عہدے سے برطرف کردیا تھا۔ ٹلرسن نے امریکی وزارت خارجہ کے کارکنوں اور معاونین کے ساتھ الوادعی ملاقات میں تقریر کرتے ہوئے اشاروں اور کنایوں کا استعمال کرتے ہوئے کہا تھا کہ اپنی دولت ضائع ہونے سے بچائیں کیونکہ امریکہ کی موجودہ خارجہ پالیسی میں تبدیلی کی اشد ضرورت ہے۔ ٹلرسن نے ٹرمپ کی جانب سے خلاف قانون کاموں پر اصرار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے سامنے قانون کی بات کی جائے تو ٹرمپ کو بہت برا لگتا ہے۔
واضح رہے کہ نکی ہیلی کی کتاب ‘ود آل ڈیو رسپیکٹ، ڈفینڈنگ امریکہ ود گرٹ اینڈ گریس’ آج منگل کے روز منظر عام پر آئے گی۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس