تاریخ شائع کریں۱۹ آبان ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۷:۱۶
خبر کا کوڈ : 442292

مسلمان اپنے مذہبی اور قانونی حق کا دفاع کرنا جانتے ہیں

عدالت عظمٰی کا احترام ہے، وہ سپریم اتھارٹی بھی ہے لیکن غلطی سے مبرا نہیں۔ اس فیصلے پر ہمیں شدید تحفظات ہیں۔
مسلم رہنما اسد الدین اویسی نے بابری مسجد فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت عظمٰی کا احترام ہے، وہ سپریم اتھارٹی بھی ہے لیکن غلطی سے مبرا نہیں۔ اس فیصلے پر ہمیں شدید تحفظات ہیں۔
مسلمان اپنے مذہبی اور قانونی حق کا دفاع کرنا جانتے ہیں
بین الاقوامی خبررساں ادارے کے مطابق مسلم رہنما اسد الدین اویسی نے بابری مسجد فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت عظمٰی کا احترام ہے، وہ سپریم اتھارٹی بھی ہے لیکن غلطی سے مبرا نہیں۔ اس فیصلے پر ہمیں شدید تحفظات ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ مسلمان غریب ہیں اور تعصب کا شکار بھی ہیں لیکن اتنے بھی گئے گزرے بھی نہیں کہ اللہ کے لیے پانچ ایکڑ زمین نہ خرید سکے۔ ہمیں کسی کے خیرات یا بھیک کی ضرورت نہیں۔ ہم اپنے قانونی حق کے لیے لڑ رہے تھے۔
اسد الدین اویسی نے کانگریس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر 1949 میں راجیو گاندھی مسجد کا تالا نہیں کھولتے تو وہاں انتہا پسند چپکے سے مورتیاں رکھ کر یہ سارا ڈرامہ نہیں کرپاتے اور اب کانگریس منافقانہ رویہ اپنائے ہوئے ہے۔
اگرچہ انہوں نے سپریم کورٹ کا فیصلہ رد کر دیا ہے تاہم ابھی ان کی طرف سے مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
واضح رہے کی بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کیس میں متنازع زمین کو ہندوؤں کی ملکیت قرار دیتے ہوئے مسلمانوں کو کسی اور جگہ مسجد تعمیر کرنے کے لیے 5 ایکڑ زمین دینے کا فیصلہ سنایا ہے۔
بھارتی سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر پاکستان نے بھی شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس