تاریخ شائع کریں۱۸ آبان ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۸:۱۷
خبر کا کوڈ : 442188

استعفیٰ کا مطالبہ غیر آئینی ہے، سنجیدہ مذاکرات کیے جائیں

پاکستان کے وزیراعظم نے مذاکراتی کمیٹی کو صاف جواب دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کی شرط اگر استعفیٰ مانگنا ہی ہے تو پھر مذاکرات نہیں ہونے چاہئیں۔
پاکستان کے وزیراعظم نے مذاکراتی کمیٹی کو صاف جواب دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کی شرط اگر استعفیٰ مانگنا ہی ہے تو پھر مذاکرات نہیں ہونے چاہئیں۔
استعفیٰ کا مطالبہ غیر آئینی ہے، سنجیدہ مذاکرات کیے جائیں
پاکستان کے وزیراعظم نے مذاکراتی کمیٹی کو صاف جواب دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کی شرط اگر استعفیٰ مانگنا ہی ہے تو پھر مذاکرات نہیں ہونے چاہئیں۔
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے حکومتی کمیٹی سے ملاقات میں کہا کہ بار بار استعفے کی بات ہورہی ہے، اگر اپوزیشن کا یہی مطالبہ ہے تو پھر مذاکرات نہیں ہونے چاہئیں۔
عمران خان نے مذاکراتی کمیٹی کو اپوزیشن سے مذاکرات جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ استعفیٰ کا مطالبہ غیر آئینی ہے، سنجیدہ مذاکرات کیے جائیں۔
دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ دھاندلی سے آنے والوں کو حکومت نہیں کرنے دیں گے۔
جے یو آئی (ف) کے آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومتی مذاکراتی کمیٹی آتی جاتی رہتی ہے، حکومتی کمیٹی کو کہا ہے کہ ہمارے پاس آنا ہے تو وزیراعظم عمران خان کا استعفی لیکر آنا۔ کمیٹی میں ہمارے موقف سمجھنے کی صلاحیت نہیں۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس