تاریخ شائع کریں۱۶ آبان ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۹:۱۷
خبر کا کوڈ : 442023

عراق میں اقتصادی بحران کے خلاف احتجاج میں ملکی اقتصاد کو بھاری نقصان

حکومت عراق نے اعلان کیا ہے کہ بدامنی کے حالیہ واقعات میں ہونے والے مالی نقصان کا تخمینہ چھے ارب ڈالر لگایا گیا ہے
حکومت عراق نے اعلان کیا ہے کہ بدامنی کے حالیہ واقعات میں ہونے والے مالی نقصان کا تخمینہ چھے ارب ڈالر لگایا گیا ہے
عراق میں اقتصادی بحران کے خلاف احتجاج میں ملکی اقتصاد کو بھاری نقصان
حکومت عراق نے اعلان کیا ہے کہ بدامنی کے حالیہ واقعات میں ہونے والے مالی نقصان کا تخمینہ چھے ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔
بغداد سے ہمارے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی کے ترجمان عبدالکریم خلف نے اعلان کیا ہے کہ عراق میں بدامنی کے حالیہ واقعات میں ملک کو چھے ارب ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔انھوں نے کہا کہ حکومت عراق نے مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف طاقت کے استعمل سے پرہیز کیا ہے اور عوامی مظاہروں کے دوران طاقت استعمال کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کرے گی ۔
عراق میں عوام کے پر امن مظاہروں کو تشدد اور بلوے میں تبدیل کردیئے جانے کے نتیجے میں ملک کو چھے ارب ڈالر کا نقصان پہنچنے کا اعلان ایسی حالت میں کیا گیا ہے کہ مظاہرین نے بدھ کو بھی جنوبی عراق کی الناصریہ آئل ریفائنری کے اطراف کی سڑکیں بند کرکے ، یہاں سے ایندھن کی سپلائی روک دی تھی۔
عراق سے موصولہ ایک اور رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کربلائے معلی کے قبائلی عمائدین نے ایرانی قونصل خانے جاکے، گزشتہ دنوں بعض شرپسندوں کی جانب سے کئے جانے والے حملے پر معذرت اور افسوس کا اظہار کیا ہے ۔
کربلائے معلی کے قبائلی عمائدین نے ایرانی قونصل خانے کے عہدیداروں سے ملاقات میں اس حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ۔
اس سے پہلے عراقی وزارت خارجہ بھی ایرانی قونصل خانے پر حملے کی مذمت کرچکی ہے۔عراقی حکام نے کہا ہے کہ بعض خفیہ طاقتیں جو داعش کے خلاف جنگ میں عراق کےساتھ ایران کے تعاون اور داعش کی شکست پر ناراض ہیں، ایران اور عراق کے دوستانہ اور برادرانہ روابط کو خراب کرنا چاہتی ہیں ۔
عراقی حکام کا کہنا ہے کہ یہ طاقتیں عراقی حکومت اور عوام سے داعش کی شکست کا بدلہ لینا چاہتی ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ گزشتہ اتوار کی رات اغیار سے وابستہ شر پسند عناصر نے کربلائے معلی میں ایران کے قونصل خانے پر حملہ کردیا تھا۔
یاد رہے کہ عراق میں عوام نے رفاہی خدمات کی کیفیت مناسب نہ ہونے، بے روزگاری اور بد عنوانی کے خلاف مظاہرے شروع کئے تھے ۔ عوام کے ان مطالبات کو عراقی حکومت نے برحق قرار دیا تھا اور مطالبات کو پورے کرنے کا وعدہ بھی کیا تھا ۔ حکومت عراق نے عوام کے مطالبات پورے کرنے کے لئے چار پییکیج کا بھی اعلان کیا تھا لیکن اس دوران اغیار سے وابستہ عناصر نے عوام کے پر امن مظاہروں کو اغوا کرلیا اور انہیں بلوے اور شورش میں تبدیل کردیا جس کے نتیجے میں دسیوں افراد جاں بحق اور زخمی ہوگئے جبکہ سرکاری اور عوامی املاک کو نقصان بھی پہنچایا گیا۔
عراقی حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ امریکی اور صیہونی حکومتیں بغداد کی پالیسیوں سے ناراض ہیں اور بدامنی کے حالیہ واقعات میں ان سے وابستہ عناصر کا ہاتھ ہے۔اسی کے ساتھ بصرہ پولیس نے بھی صراحت کے ساتھ اعلان کیا ہے کہ صیہونی حکومت، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات عراق میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں ۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس