تاریخ شائع کریں۱۴ آبان ۱۳۹۸ گھنٹہ ۲۲:۲۰
خبر کا کوڈ : 441914

برطانیہ اور بیلجیم کی وزارت خارجہ کا داعش میں شامل شہریوں کے خلاف ایکشن

بیانات کے مطابق ان لوگوں پر ان ہی ممالک میں مقدمہ چلایا جانا چاہیے جہاں انہوں نے جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔
برطانیہ اور بیلجیم کی وزارت خارجہ کے جاری کردہ الگ الگ بیانات میں کہا گیا ہے کہ انہیں داعش میں شامل اپنے ملک کے شہریوں کو تحویل میں لینے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔
برطانیہ اور بیلجیم کی وزارت خارجہ کا داعش میں شامل شہریوں کے خلاف ایکشن
برطانیہ اور بیلجیم نے داعش کے یورپی عناصر پر عراق اور شام میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔
برطانیہ اور بیلجیم کی وزارت خارجہ کے جاری کردہ الگ الگ بیانات میں کہا گیا ہے کہ انہیں داعش میں شامل اپنے ملک کے شہریوں کو تحویل میں لینے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ بیانات کے مطابق ان لوگوں پر ان ہی ممالک میں مقدمہ چلایا جانا چاہیے جہاں انہوں نے جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ 
برطانیہ اور بیلجیم کی وزارت خارجہ کے جاری کردہ بیانات میں داعش میں شامل اپنے ملک کے شہریوں کی واپسی کی بھی مخالفت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان عناصر پر عراق اور شام میں مقدمہ چلایا جائے کیونکہ برطانیہ اور بیلجیم میں ان کے خلاف کوئی کیس موجود نہیں ہے۔ یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ترک وزیر داخلہ سلیمان سویلو نے گزشتہ روز کہا تھا کہ شمالی شام میں ترک فوج کے آپریشن کے دوران گرفتار ہونے والے یورپی داعشیوں کو ان کے ملک واپس بھیج دیا جائے گا۔قابل ذکر ہے کہ شمالی شام پر ترک فوج کے حالیہ حملے کے بعد، داعشی عناصر کے خلاف مقدمات چلانے کے حوالے سے یورپی ملکوں اور ترکی کےدرمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ 
 
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس