تاریخ شائع کریں۱۳ آبان ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۸:۳۰
خبر کا کوڈ : 441784

سعودی جیل سے رہا ہونے والے پاکستانی سفارتی ذریعہ سے واپس جاسکتے ہیں

ریاض میں پاکستانی سفارتخانے کا کہناہے کہ سعودی عرب میں غیرقانوںی طور پر مقیم پاکستانی شہری سفارتی عملے سے رابطہ کریں۔
ریاض میں پاکستانی سفارتخانے کا کہناہے کہ سعودی عرب میں غیرقانوںی طور پر مقیم پاکستانی شہری سفارتی عملے سے رابطہ کریں۔
سعودی جیل سے رہا ہونے والے پاکستانی سفارتی ذریعہ سے واپس جاسکتے ہیں
بین الاقوامی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، ریاض میں پاکستانی سفارتخانے کا کہناہے کہ سعودی عرب میں غیرقانوںی طور پر مقیم پاکستانی شہری سفارتی عملے سے رابطہ کریں۔
سعودی حکام کے مطابق پاکستانی شہری سفارت کے ذریعے ہی اپنے ملک واپس جاسکیں گے۔
واضح رہے کہ ویلفئیر اتاشی محمود لطیف نے کہا ہے کہ اسکیم کے تحت وطن جانے والے افراد پھرسعودی عرب نہیں آسکیں گے۔
محمود لطیف کا کہنا تھا کہ سفار تخانے کے رابطے پر ہی جیل حکام پاکستانی شہریوں کو واپس بھیجیں گے اور یہ افراد سفارتخانوں کےذریعےاپنےممالک جا سکیں گے۔
یاد رہے سعودی عرب ہزاروں پاکستانی شہری قید ہیں۔
وزیراعظم عمران خان اورسعودی ولی عہد میں معاہدے کے بعد صرف 563 قیدی رہا ہوئے۔ باقی شہری اب بھی سعودی جیلوں میں صعوبتیں برداشت کررہے ہیں۔
یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان اور ولی عہد معاہدے کے مطابق 2100 قیدیوں کی رہائی کا کہا گیا تھا تاہم سعودی حکام نے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے صرف 563 افراد کو رہا کیا ہے۔
اقتصادی ماہرین کا کہناہے کہ ملک میں روزگار کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے سالانہ ہزاروں شہری سعودی عرب کا رخ کرتے ہیں اور وہاں کے قوانین سےعدم آشنائی، نسوار اور پان استعمال کرنے جیسے معمولی جرائم پر جیل بھیج دیا جاتا ہے اور سالہا سال کوئی خبر لینے والا نہیں ہوتا۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس