تاریخ شائع کریں۱۲ آبان ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۸:۲۸
خبر کا کوڈ : 441702

امریکا کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ بند ہوچکے ہیں

امریکی شروع سے ہی ایرانی قوم کےدشمن تھے ظاہرا سابق شاہی حکومت سے دوستی کا ڈھونگ رچا رہے
امام خامنہ ای نے تہران میں مختلف یونیورسٹیوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں طلبا کے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: درندہ صفت امریکا کمزور ہونے کے ساتھ ساتھ پہلے سے زیادہ وحشی بن چکا ہے
امریکا کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ بند ہوچکے ہیں
تقریب خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، امام خامنہ ای نے تہران میں مختلف یونیورسٹیوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں طلبا کے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: درندہ صفت امریکا کمزور ہونے کے ساتھ ساتھ پہلے سے زیادہ وحشی بن چکا ہے۔
رہبر معظم انقلاب نے فرمایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ بند کرکے ملک میں امریکی اثر و رسوخ کا خاتمہ کردیا ہے۔
انہوں ںے فرمایا کہ امریکی شروع سے ہی ایرانی قوم کےدشمن تھے ظاہرا سابق شاہی حکومت سے دوستی کا ڈھونگ رچا رہے تھے اور ان کی باطنی دشمنی شمسی سال28 مرداد کو کھل کر سامنے آگئی۔
امریکی پالیسی میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، امریکی حکام کی شرارتیں، درندگی، عالمی سطح پراستعمارگری آج بھی جاری ہے البتہ امریکا کمزور ضرور ہوا ہے لیکن ان کی درندگی میں اضافہ ہوا ہے۔
انقلاب سے پہلے ایران مکمل طور امریکیوں کا محتاج تھا، ایرانی قوم نے امام خمینی کی قیادت میں امریکی اثرورسوخ کا خاتمہ کرکے ملک کا سر فخر سے بلند کردیا ہے۔
رہبرمعظم نے فرمایا امریکی حکام نے 41 سالوں سے ایران کے خلاف جو کرسکتے تھے کیا، ایران کے خلاف غلط تبلیغات کیں، پابندیاں لگاکر اقتصادی طور پر ملک کا محاصرہ کیا ان کے جواب میں ہم نے بھی جو کرسکتے تھے کیا اور ہم نے اس وقت امریکا کوپورےخطے سے کنارہ کش ہونے پر مجبور کردیا ہے۔
رہبر معظم نے فرمایا: امریکا دوبارہ ایران پر مسلط ہونے کی کوشش کررہا ہے، امریکی اثر و رسوخ روکنے کا واحد حل ان سے مذاکرات نہ کرنا ہے۔
رہبر نے فرمایا کہ امریکی دیگر ممالک کے حکام پر احسان جتاتے ہیں کہ ہم نے تم سے مذاکرات کئے لیکن دوسری طرف کئی سالوں سے اسلامی جمہوریہ ایران سے مذاکرات کی تمنا کررہا ہے اور ہم مذاکرات سے منع کررہےہیں، یہ دشمن کے لئے قابل برداشت نہیں ہے؛ کیونکہ اس وقت دنیا میں ایک ایسی اسلامی حکومت ہے جو امریکی استعمار گری کو قبول نہیں کرتی ہے۔
امام خامنہ ای نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کو بے فائدہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: بعض لوگ کہتے ہیں کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کرنے سے مشکلات دور ہوں گی؛ یہ ان کی خام خیالی ہے؛ کیونکہ امریکیوں سے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں۔
اگر ایرانی حکام امریکا سے مذاکرات کرتے تو انہیں کچھ نہیں ملنا تھا، نہ پابندیاں ہٹاتے بلکہ ایران پر مذید دباو ڈالنے کی کوشش کرتے۔
امام خامنہ ای نے ایرانی میزائل پروگرام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ایران کے پاس 2ہزار کلومیٹر تک دشمن کو نشانہ بنانے والے میزائل موجود ہیِں۔ اگر امریکی حکام سے مذاکرات کرتے تو وہ ضرور یہ کہتے ایران کے لئے 150 کلومیٹر تک مار کرنے والے میزائل ہی کافی ہیں۔
امام خامنہ ای نے فرمایا کہ امریکی کہتے ہیں ایران خطے میں کسی قسم کی کوئی فعالیت نہ کرے، اسلامی مزاحمتی تحریکوں کی مدد نہ کرے، دنیا کے کسی ملک میں نہ رہے، میزائل پروگرام کو محدود کرے اگر ان سب پر عمل بھی کیا تو وہ یہی نہیں رکیں گے۔
وہ کہیں گے دینی قوانین سے بھی دستبردار ہوجائیں، اسلامی حجاب پر تاکید نہ کریں وغیرہ لہذا امریکی احکامات کبھی ختم نہیں ہوں گے۔ اس لئے میں چند سال قبل بھی کہا تھا امریکی حکام کی توقعات بے انتہا ہیں۔ ان کو خود سے دور رکھیں۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس