تاریخ شائع کریں۱۰ آبان ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۹:۲۳
خبر کا کوڈ : 441507

علامہ احمد صافی نے آیت اللہ سیستانی کا بیان من و عن پڑھ کر سنایا

متن خطبه دوم حضرت علامه سید احمد صافی، نماینده مرجعیت، در تاریخ جمعه 3 ربیع الاول 1441 هـ/ 1 نوامبر 2019
نماز جمعہ کے دوسرے خطبے کا متن ہے جو آیت اللہ العظمی سید علی سیستانی دام ظلہ کے دفتر کی جانب سے ارسال کیا گیا تھا اور علامہ احمد صافی نے اسے من و عن قرائت کیا ہے۔
علامہ احمد صافی نے آیت اللہ سیستانی کا بیان من و عن پڑھ کر سنایا
یہ آج نماز جمعہ کے دوسرے خطبے کا متن ہے جو آیت اللہ العظمی سید علی سیستانی دام ظلہ کے دفتر کی جانب سے ارسال کیا گیا تھا اور علامہ احمد صافی نے اسے من و عن قرائت کیا ہے۔
 
متن خطبه دوم حضرت علامه سید احمد صافی، نماینده مرجعیت، در تاریخ جمعه 3 ربیع الاول 1441 هـ/ 1 نوامبر 2019

بھائیوں اور بہنوں
آیت اللہ سید علی سیستانی (دام ظلہ) کے دفتر سے جو متن ہم تک پہچا ہے اس کو من عن آپ کے سامنے پڑھ رہا ہوں
بسم اللہ الرحمن الرحیم
بغداد اورعراق کے صوبوں میں جاری مظاہروں میں جہاں افراد اصلاحات کے طلبگار ہیں،ہم نے حالیہ ہفتے میں مظاہرین کی جانب سکیورٹی فورسز کے ساتھ دلسوز اور افسوس ناک سلوک کا مشاہدہ کیا ہے۔ان تشدد آمیز واقعات میں سکیورٹی فورسز اور مظاہرین میں بہت سے افراد زخمی اور جاں بحق ہوئے ہیں اور جلاو گھیراو کے نتیجے میں بہت سی عوامی املاک کو بھی نقصان پہچا ہے۔
گذشتہ ہفتے میں جو پاک خون بہایا گیا ہے ہم سب کے لیے انتہائی بیش قیمت تھا اور ہر صورت میں اس خون خرابے کو روکا جانا چاہیے تھا اور کسی بھی قیمت میں شر پسند عناصر کو اجازت نہیں دی جانی چاہیے تھی کہ اس طرح معصوم افراد کے خون سے اپنے ہاتھ رنگین کرتے ہوئے ملک میں اس قسم کے انتشار پھیلایئں۔
اگر ہم سب کوشش کریں تو اس قسم کے خون خرابے کو روکا جاسکتا ہے اور ملک کو درپیش انتشار سے بھی بچایا جاسکتا ہے اور اس دشمنی کی جگہ عراقی عوام کے دلوں میں محبت اور آشتی ایجاد کی جاسکتی ہے۔
مرجعیت دینی ایک مرتبہ پھر اپنی پوزیشن کو واضح کرنا چاہتی ہے اور ان مظاہروں کی آڑ میں شدت پسندانہ کاروائی کرنے والے افراد اور مرجعیت کا نام لے کر بلوا پھیلانے والوں کو خبردار کرتی ہے۔
اسی طرح سے حکومتی عھدیدارن اور ذمہ داران کو بھی تاکید کرتی ہے کہ مناسب ردعمل کا اظھار کرتے ہوئے مسالمت آمیز مظاہرین کے خلاف کسی قسم کی فورسز استعمال نا کی جائی اور ہر قسم کی طاقت کے استعمال سے گریز کیا جائے تاکہ شرانگیزی میں مزید اضافہ نا ہو۔
عراقی عوام کے جائز اور قانونی مطالبات  کا احترام کیا جائے اور مرجیعت بھی سیاسی نظام اور ملکی اداروں کا قانون طریقہ سے تعین، اور اسمبلی کے انتخابات خواہش رہی ہے اور آمریت کے خاتمے کے بعد سے اس ہر تاکید کرتی چلی آئی ہے۔
آج بھی مرجعیت ضروری اور قطعی اصلاحات کا مطالبہ کرتی ہے اور ضروری اصلاحات کے متعلق بارہا گفتگو کر چکی ہے۔عراق کے تمام مسالک اور قوموں کو ان اصلاحات پر اعتماد میں لیا جائے نا شخصی بنیادوں پر فیصلے کیے جایئں اور نا ہی کسی خاص گروہ کی پسند و نا پسند کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔ایسی طرح اجازت نا دی جائے کہ خطے یا دور از خطے کی طاقتیں عراقی عوام کے ارادے کو اپنے مفاد میں استعمال کرکے ان پر اپنی سوچ مسلط کردے۔
ہم چاہتے ہیں کہ عراق کے حال اور مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچیں اور انفرادی خواہشات کو اجتماعی درست فیصلوں کے ذریعے ناکام بنا دیں کیوںکہ عراق کی خیر ، صلاح اور روشن مستقبل اجتماعی فیصلوں میں ہے۔
والله الهادی الی الصواب و هو ولی التوفیق
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس