تاریخ شائع کریں۲۴ مهر ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۹:۵۳
خبر کا کوڈ : 440251

ایران پر بے بنیاد الزامات حقائق کو مخدوش کرنے کی پالیسی کا تسلسل ہیں

سید فاطمہ حسینی نے کہا کہ افسوس کہ یہ بیانات ، علاقے کے حقائق کو مخدوش کرنے کی پالیسی کا تسلسل ہیں
انٹرپارلیمنٹری یونین کے اجلاس میں ایران کے وفد نے بعض ممالک کی جانب سے یمن میں اسلامی جمہوریہ ایران کی مداخلت جیسے بے بنیاد الزامات کی مذمت کی ہے
ایران پر بے بنیاد الزامات حقائق کو مخدوش کرنے کی پالیسی کا تسلسل ہیں
انٹرپارلیمنٹری یونین کے اجلاس میں ایران کے وفد نے بعض ممالک کی جانب سے یمن میں اسلامی جمہوریہ ایران کی مداخلت جیسے بے بنیاد الزامات کی مذمت کی ہے
اسلامی جمہوریہ ایران کے پارلیمانی وفد کی سربراہ سیدہ فاطمہ حسینی نے آئی پی یو کے ایک سو اکتالیسویں  اجلاس میں بحرینی نمائندے کے اس دعوے کو سختی سے مسترد کردیا کہ ایران علاقے کی پراکسی وار اور سعودی عرب کی آئل تنصیبات آرامکو پر ہونے والے حالیہ حملوں میں ملوث ہے۔
سید فاطمہ حسینی نے کہا کہ افسوس کہ یہ بیانات ، علاقے کے حقائق کو مخدوش کرنے کی پالیسی کا تسلسل ہیں ۔ایرانی پارلیمانی وفد کی سربراہ نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ایران یمنی گروہوں کے درمیان گفتگو کی حمایت کرتا ہے کہا کہ حیرت کی بات ہے کہ وہ جو داعش اور القاعدہ جیسے تکفیری گروہوں کے حامی و پشتپناہ شمار ہوتے ہیں ، وہی اپنے پڑوسیوں کے خلاف دشمنانہ بیانات دیتے ہیں۔ایران کے پارلیمانی وفد کی سربراہ نے مزید کہا کہ بعض ممالک کے بیانات کے  برخلاف اسلامی جمہوریہ ایران نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں خاص طور سے علاقے کے تکفیری دہشتگردوں کا قلع قمع کرنے میں ہمیشہ تعمیری کردار ادا کیا ہے۔
ایران کے پارلیمانی وفد کی سربراہ فاطمہ حسینی نے مزید کہا کہ آج جو دہشتگرد گروہ  علاقے میں دہشتگردانہ کارروائیاں کررہے ہیں انھیں بحرین جیسی مختلف حکومتوں کی سرپرستی حاصل ہے لہذا ان حکومتوں کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنا چاہئے تاکہ علاقے میں امن و استحکام بحال ہو سکے۔
ایک سو اکتالیسواں آئی پی یو اجلاس صربیا کے دارالحکومت بلغراد میں دس اکتوبر سے شروع ہوا ہے جو سترہ اکتوبر تک جاری رہے گا 
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس