تاریخ شائع کریں۲۲ مهر ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۶:۰۷
خبر کا کوڈ : 440010

شیعہ اور سنی کے درمیان اتحاد نے دنیا میں عظیم انقلاب کی مثال پیش کی ہے

سید ابو الحسن علی ندوی" معروف اہلسنت عالم دین جو مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور وحدت کے داعی ہیں
اگر مسلمانوں کے درمیان وحدت قائم ہوجائے تو ایک عظیم انقلاب اسلامی اور تفکرات اسلامی کی نئی لہر ایجاد ہوجائے گی"۔
شیعہ اور سنی کے درمیان اتحاد نے دنیا میں عظیم انقلاب کی مثال پیش کی ہے
شیعہ اور سنی کے درمیان اتحاد نے دنیا میں عظیم انقلاب کی مثال پیش کی ہے
تقریب خبر رساں ایجنسی کے مطابق مسلمانوں میں وحدت کی اہمیت کو فروغ دینے کے عنوان سے علماء اور دانشمندوں کی آراء کو پیش کیا جارہا ہےکیوں کہ دشمن کے مقابلے میں وحدت اور اپنی صفوں میں نظم بہت ہی ضروری ہے اور یہ عالم اسلام کے دلسوز شخصیات کی دلی آرزو ہونے کے ساتھ ساتھ جمہوری اسلامی ایران کا بھی ہدف ہے ۔
لیکن بعض افراد گمان کرتے ہیں کہ وحدت کا مطلب یہ ہے کہ اپنے عقائد سے چشم پوشی کرکے دوسرے مذہب کو اختیار کریا جائے، جو کہ سراسر غلط اور گمراہ کن فکر ہے۔
اس مقدس ہدف کی بنیاد قرآن و سنت ہے جس میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ آس میں تفرقہ ایجاد نہ کریں، کیوں کہ مسلمانوں کے درمیان تفرقہ اللہ کی عنایات میں کمی کا باعث ہے اور مسلمانوں کی ذلت و رسوائی کا سب سے بڑا سبب بھی ہے۔
اگرمسلمانوں کے درمیان مشترکات پر ذرا بھی فکر کی جائے  تو معلوم ہوگا کہ ہمارے درمیان 90٪  اعتقادی اشتراکات پائے جاتے ہیں جس کو سنی و شیعہ دونوں علماء قبول کرتے  ہیں۔
سید ابو الحسن علی ندوی" معروف اہلسنت عالم دین جو مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور وحدت کے داعی ہیں ، ہمیشہ ہی شیعہ اور سنی کے درمیان وحدت کے دوام کی کوششوں میں مشغول ہیں۔آپ شیعہ اور سنی کے درمیان اتحاد اور وحدت کے تاکید کرتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ " اگر مسلمانوں کے درمیان وحدت قائم ہوجائے تو ایک عظیم انقلاب اسلامی اور تفکرات اسلامی کی نئی لہر ایجاد ہوجائے گی"۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس