تاریخ شائع کریں۲۲ مهر ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۴:۱۶
خبر کا کوڈ : 439993

ہالینڈ اور جرمنی کے بعد اب فرانس نے بھی ترکی کو اسلحے کی فروخت کو معطل کردی

شام کے سرحدی علاقوں میں مسلح کردوں کے خلاف ترک فوج کا آپریشن جاری ہے
شام میں کردوں کے خلاف فوجی کارروائی کرنے پر ہالینڈ اور جرمنی کے بعد اب فرانس نے بھی ترکی کو اسلحے کی فروخت کو معطل کر دی ہے
ہالینڈ اور جرمنی کے بعد اب فرانس نے بھی ترکی کو اسلحے کی فروخت کو معطل کردی
شام میں کردوں کے خلاف فوجی کارروائی کرنے پر ہالینڈ اور جرمنی کے بعد اب فرانس نے بھی ترکی کو اسلحے کی فروخت کو معطل کر دی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق شام کے سرحدی علاقوں میں مسلح کردوں کے خلاف ترک فوج کا آپریشن جاری ہے تاہم عالمی سطح پر اس کارروائی کے خلاف  سخت ردعمل بھی سامنے آرہا ہے۔ فوجی کارروائی کے آغاز پر ہی اسلامی جمہوریہ ایران نے سخت رد عمل دکھایا جس کے بعد ہالینڈ اور جرمنی  نے ترکی کو اسلحہ فروخت کرنے کے معاہدے معطل کردیئے تھے اور اب فرانس نے بھی اسلحے کی فروخت بند کردی ہے۔
فرانسیسی وزارت دفاع اور خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ فرانس نے ترکی کو اسلحے کی خرید و فروخت سے متعلق کیے گئے تمام معاہدوں کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہو گا۔
واضح رہے کہ شمالی شام میں ترکی کی فوجی کارروائی ترک صدر رجب طیب اردوغان اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت کے بعد شروع ہوئی ہے۔
شمالی شام پر ترکی کے فوجی حملوں کی شام ، عالمی برادری اور یورپی ممالک کی جانب سے سخت مخالفت ہو رہی ہے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس