تاریخ شائع کریں۲۲ مهر ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۴:۰۸
خبر کا کوڈ : 439990

جبری لاپتہ افراد کے خلاف اہل خانہ کا احتجاج

پریس کلب کے سامنے لاپتہ ہونے والوں کے اہلخانہ نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے
پاکستان کے شہر حیدرآباد میں مقامی پریس کلب کے سامنے لاپتہ ہونے والوں کے اہلخانہ نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں ناقابل بیان تکلیف سے چھٹکارہ دلایا جائے
جبری لاپتہ افراد کے خلاف اہل خانہ کا احتجاج
پاکستان کے شہر حیدرآباد میں مقامی پریس کلب کے سامنے لاپتہ ہونے والوں کے اہلخانہ نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں ناقابل بیان تکلیف سے چھٹکارہ دلایا جائے۔
وائس آف میسنگ پرسن سندھ کے تحت احتجاج کا اہتمام کیا گیا تھا جبکہ ’جبری لاپتہ افراد کو رہا کرو‘ مذکورہ احتجاجی مہم کا نعرہ تھا۔ اس موقع پربھوک ہڑتالی مظاہرین کا کہنا تھا کہ ان کے پیاروں کو سیکیورٹی ایجنسی کے اہلکاروں نے اٹھایا لیکن اب لاپتہ ہونے والے افراد کے بارے میں وہ اس حوالے سے کچھ بھی بتانے سے قاصر ہیں۔
فورم کی جانب سے مطالبہ کیا گیا کہ لاپتہ کیے جانے والے افراد کو رہا کیا جائے یا پھر کم از کم ان کی موجودگی کے بارے میں ان کے اہلخانہ کو مطلع کیا جائے۔
مقامی صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے مظاہرین نے کہا کہ اگر لاپتہ افراد نے کوئی جرم کیا ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ گلشن حدید سے مسعود شاہ کو اٹھایا گیا اور اس کے بعد سے تاحال ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ مسعود شاہ کے رشتے داروں کو بھی گرفتار کرکے ان پر ’جھوٹے‘ مقدمے دائر کردیے گئے۔
ان کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ اتوار کو کراچی میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے احتجاج کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ اگست 2017 میں سندھ ہائی کورٹ حیدرآباد سرکٹ کے ڈویژن بینچ نے آئی جی پولیس سندھ کو گزشتہ 2 سال کے دوران لاپتہ ہونے والے افراد اور نامعلوم لاشوں کی تفصیلات مرتب کرکے رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔
علاوہ ازیں دسمبر 2017 میں ہی پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے مطالبہ کیا تھا کہ لاپتہ افراد پر کمیشن کی تشکیل کے ساتھ ساتھ تاریخ کو درست کرنے کے لیے سچ پر مبنی اور مفاہمتی کمیشن بنایا جائے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس