تاریخ شائع کریں۱۶ مهر ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۷:۲۰
خبر کا کوڈ : 439511

جلال آباد میں کیڈٹس کی بس دہشتگردی کا نشانہ بن گئی

افغانستان کے شہر جلال آباد میں کیڈٹس کی بس کو جو کابل جارہی تھی راستے میں نشانہ بنایا گیا۔
صوبائی کونسل ننگر ہار کے رکن سہراب قدیری نے بتایا کہ دھماکہ خیز مواد سامان کی ترسیل کے لیے استعمال ہونے والی ایک چھوٹی گاڑی میں نصب تھا جو بس سے ٹکرا گئی۔
جلال آباد میں کیڈٹس کی بس دہشتگردی کا نشانہ بن گئی
افغانستان کے شہر جلال آباد میں کیڈٹس کی بس کو جو کابل جارہی تھی راستے میں نشانہ بنایا گیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق صوبائی کونسل ننگر ہار کے رکن سہراب قدیری نے بتایا کہ دھماکہ خیز مواد سامان کی ترسیل کے لیے استعمال ہونے والی ایک چھوٹی گاڑی میں نصب تھا جو بس سے ٹکرا گئی۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکے میں ہلاک ہونے والوں میں افغان سیکیورٹی فورسز کے کیڈٹس، عام شہری اور ایک بچہ شامل ہے۔
سہراب قدیری کے مطابق زخمیوں میں اکثر افراد کی حالت نازک ہے، تاہم انہیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اب تک کسی بھی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
دوسری جانب پاکستان میں امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کی طالبان رہنماؤں سے ملاقات کے بعد افغان حکومت اور طالبان کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ ہوا ہے۔
افغان حکومت نے طالبان گروپ کے دو شیڈو گورنر سمیت متعدد قیدیوں کو رہا کردیا۔
طالبان نے بھی اپنی قید میں تین ہندوستانی انجینئروں کوآزاد کردیا، تاہم ہندوستانی انجینئروں کی رہائی کی ہندوستانی یا افغان حکومت نے تصدیق نہیں کی۔
طالبان کے سابق کمانڈر سید محمد اکبر آغا نے دعویٰ کیا ہے کہ گیارہ طالبان قیدیوں کی رہائی کے بدلے تین ہندوستانی قیدیوں کو رہا کیا گیا ہے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس