تاریخ شائع کریں۱۴ مهر ۱۳۹۸ گھنٹہ ۲۰:۴۹
خبر کا کوڈ : 439307

بلاڈیل بریگزیٹ میں یورپی یونین کو کوئی دلچسپی نہیں ہے

میشل بارنیہ نے یورپی یونین سے اس ملک کے نکلنے کے برطانوی منصوبے کو ناقابل عمل قرار دیتے ہوئے کہا
بریگزیٹ کے امور میں یورپی یونین کے سینئرمذاکرات کار میشل بارنیہ نے یورپی یونین سے اس ملک کے نکلنے کے برطانوی منصوبے کو ناقابل عمل قرار دیتے ہوئے کہا
بلاڈیل بریگزیٹ میں یورپی یونین کو کوئی دلچسپی نہیں ہے
بریگزیٹ کے امور میں یورپی یونین کے سینئرمذاکرات کار میشل بارنیہ نے یورپی یونین سے اس ملک کے نکلنے کے برطانوی منصوبے کو ناقابل عمل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بلا ڈیل برگزیٹ کی ذمہ داری لندن پرعائد ہوتی ہے۔
میشل بارنیہ نے سنیچر کی شام صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئےاس بات کا ذکر تے ہوئے کہ بلاڈیل بریگزیٹ میں یورپی یونین کو کوئی دلچسپی نہیں ہے کہا کہ اگر برطانیہ ڈیل کے لئے پرعزم ہے تو اس کے پاس ہفتے کے آخر تک نیا منصوبہ پیش کرنے کا موقع ہے۔یورپی یونین سے برطانیہ کے باہر نکلنے میں ابھی ایک مہینے کا وقت باقی ہے اور برطانوی وزیراعظم بوریس جانسن نے گذشتہ بدھ  کو برگزیٹ سے برطانیہ کو باہر نکالنے کے لئے حتمی اور آخری پروگرام کی رونمائی کر دی اور اسے یورپی یونین کے سامنے پیش بھی کردیا۔ برطانوی وزیر اعظم بوریس جانسن نے اپنے منصوبے میں تجویز دی ہے کہ دوہزار بیس کے آخر تک برطانیہ کے ساتھ شمالی آئرلینڈ بھی یورپی کسٹم علاقے سے باہر نکل جائےگا تاہم یہ علاقہ دوہزار پچیس تک یورپی یونین کے قوانین کا پابند ہوگا۔اس طرح شمالی آئرلینڈ اور جمہوریہ آئرلنڈ کے درمیان سامان کا لین دین دورانیے کے اختتام تک سرحدی چیک پوسٹوں کے ذریعے ہی انجام پائےگا تاہم جمہوریہ آئرلینڈ اس منصوبے کا مخالف ہے۔جانسن کا اصرار ہے کہ وہ برطانیہ کو اکتیس اکتوبر تک ڈیل ہونے یا نہ ہونے دونوں صورتوں میں یورپی یونین سے باہر نکال لیں گے۔ یورپی یونین سے برطانیہ کو باہر نہ نکال پانے کی وجہ سے اب تک تھریسا مئے اور ڈیویڈ کیمرون کی حکومتیں گر چکی ہیں۔  
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس