تاریخ شائع کریں۸ مهر ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۹:۲۳
خبر کا کوڈ : 438815

ایران علاقے میں امن و استحکام اور ترقی و خوشحالی چاہتا ہے

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سید عباس موسوی نے پیر کو ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ تہران علاقے کے ملکوں کے باہمی تعاون سے سیکورٹی کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہا کہ علاقے کے ملکوں کو یہ جان لینا چاہئے
ایران علاقے میں امن و استحکام اور ترقی و خوشحالی چاہتا ہے
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ تہران علاقے کے ملکوں کے باہمی تعاون سے سیکورٹی کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہا کہ علاقے کے ملکوں کو یہ جان لینا چاہئے کہ سیکورٹی کو پیسوں سے نہیں حاصل کیا جاسکتا -
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سید عباس موسوی نے پیر کو ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ ایران علاقے میں امن و استحکام اور ترقی و خوشحالی چاہتا ہے اور یہ چیز دیگر ملکوں سے خرید کرنہیں لائی جاسکتی بلکہ علاقے کے ملکوں کے باہمی تعاون سے ہی ممکن ہے - ترجمان وزارت خارجہ نے یمن کے لئے ایران سے ہتھیاروں کی فراہمی کے تعلق سے سعودی عرب کے دعوؤں کے جواب میں کہا کہ یمن کا ہر طرف سے سخت محاصرہ ہے یہاں تک کہ یمنی عوام کے لئے انسان دوستانہ امداد بھی نہیں پہنچائی جاسکتی اس لئے اس طرح کے الزامات کی کوئی حقیقت نہیں ہے - ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ بحران یمن سے سعودی عرب کے باہر نکلنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ وہ فائربندی کو قبول کرلے اور یمن کا محاصرہ ختم کردے - ترجمان وزارت خارجہ نے اس امید کااظہار کیا کہ فائربندی کے بعد یمن کے لئے انسان دوستانہ امداد کی ترسیل کا راستہ بھی ہموار ہو جائے گا - انہوں نے کہا کہ پچھلے چند روز کے دوران اہم ترین سفارتی ایونٹ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس رہا ہے جس میں ایران نے موثر طریقے سے اور بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے اپنے تین روزہ دوہ نیویارک میں عالمی رہنماؤں کے ساتھ بہت ہی مفید اور اہم ملاقاتیں انجام دیں اور جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کے دوران انہوں نے ہرمز پیس پلان بھی پیش کیا۔ انہوں نے کہا صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے نیویارک میں اپنے قیام کے دوران دنیا کے پندرہ اہم ملکوں کے سربراہوں اور رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں جبکہ امریکی صحافیوں ، کالم نگاروں اور دانشوروں سے بھی خطاب کیا - ترجمان وزارت خارجہ نے برطانوی اخبار گارڈین کے اس دعوے کے بارے میں کہ یورپی ملکوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے ایٹمی معاہدے کے تعلق سے اپنے وعدوں پر عمل درآمد کو معطل کرنے کا سلسلہ جاری رکھا تو وہ ایٹمی معاہدے سے نکل جائیں گے کہا کہ ایران نے اب تک جو اقدامات انجام دئے ہیں وہ ایٹمی معاہدے کی شق نمبر چھبیس اور چھتیس کے مطابق انجام دئے ہیں بنابریں تہران کے اقدامات کے مقابلے میں یورپ کا ردعمل قابل قبول نہیں ہے - انہوں نے کہاکہ اگریورپی ملکوں نے عملی اقدامات انجام نہ دئے تو تہران ایٹمی معاہدے سے متعلق اپنے وعدوں پر عمل درآمد کو معطل کرنے کا سلسلہ جاری رکھےگا اور مزید شقوں پر عمل درآمد کو معطل کردے گا - ترجمان وزارت خارجہ نے اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ یورپی ملکوں سے ہمارا پہلا مطالبہ یہ ہے کہ وہ اپنے وعدوں پر عمل کریں کہا کہ امریکا کا معاملہ ایک ثانوی معاملہ ہے لیکن یورپی ممالک ان دونوں معاملات کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کرسکے ہیں اور امریکا کے کہنے پر اپنے وعدوں پر عمل درآمد میں ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں - ترجمان وزارت خارجہ نے ہرمز پیس پلان کے بارے میں کہا کہ اس پلان کی تفصیلات جلد ہی تحریری شکل میں سامنے آجائیں گی اور خاص طورپر ان آٹھ ملکوں کواس پلان کا مسودہ تحریری شکل میں ارسال کیاجائےگا جنھیں اس پلان میں شمولیت کی دعوت دی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ پلان اقوام متحدہ کے پرچم تلے پیش کیا گیا ہے اور اس کا مقصد علاقے میں امن واستحکام کی برقراری ہے - ترجمان وزارت خارجہ نے نیویارک میں امریکی کانگریس کے ممبران سے ایرانی وزیرخارجہ ڈاکٹر ظریف کی بات چیت کے بارے میں کہا کہ کانگریس کے ممبران سے جو حکومت کا حصہ نہیں ہوتے ہمیشہ رابطہ رہا ہے ان کا کہنا تھا کہ پابندیوں سے پہلے تک وہ وزیرخارجہ ڈاکٹر جواد ظریف کی قیامگاہ پر آکر ملتے اور بات چیت کرتے تھے لیکن نیوریارک میں ایرانی وفد کی آمد و رفت پر پابندیوں کے بعد امریکی کانگریس کے ممبران نے ٹیلی فون پر وزیرخارجہ ڈاکٹر جواد ظریف سے بات چیت کرنے کی کوشش کی ۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس