تاریخ شائع کریں۸ مهر ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۹:۰۰
خبر کا کوڈ : 438810

ٹرمپ نے ملک کی قومی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے

۔ٹرمپ نے ڈیموکریٹ ممبر پارلیمنٹ ایڈم شیف پر کہ جو کانگریس میں اس مسئلے کو آگے بڑھا رہے ہیں
امریکی صدر ٹرمپ نے یوکرین کے صدر کے ساتھ اپنی ٹیلی فونی گفتگو کا راز فاش ہونے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ڈیموکریٹس پر وائٹ ہاؤس کی جاسوسسی کرنے کا الزام لگایا ہے
ٹرمپ نے ملک کی قومی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے
امریکی صدر ٹرمپ نے یوکرین کے صدر کے ساتھ اپنی ٹیلی فونی گفتگو کا راز فاش ہونے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ڈیموکریٹس پر وائٹ ہاؤس کی جاسوسسی کرنے کا الزام لگایا ہے۔ دوسری جانب امریکی ایوان نمائندگان کی انٹیلیجنس کمیٹی کے سربراہ ایڈم شیف نے خبردار کیا ہے کہ ٹرمپ ممکن ہے ملک کی قومی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیں
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ یوکرین کے صدر ولو دیمیر زلنسکی سے ہونے والی ان کی ٹیلی فونی گفتگو فاش ہونا پوری طرح غلط اور جعلی ہے اور ڈیموکریٹس صدر کی جاسوسی کرتے ہیں ۔ٹرمپ نے ڈیموکریٹ ممبر پارلیمنٹ ایڈم شیف پر کہ جو کانگریس میں اس مسئلے کو آگے بڑھا رہے ہیں الزام لگاتے ہوئے کہا کہ شیف نے من گھڑت باتیں کہی ہیں اور لکھی ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ باتیں ٹرمپ نے کہی ہیں لیکن دھوکا دینے اور خیانت کرنے کی بنا پر ان کا مواخذہ ہونا چاہئے۔دوسری جانب امریکی ایوان نمائندگان کی انٹیلیجنس کمیٹی کے سربراہ ایڈم شیف نے خبردار کیا ہے کہ ٹرمپ ممکن ہے ملک کی قومی سلامتی کو ہی خطرے میں ڈال دیں ۔ ایڈام شیف نے ٹرمپ کے اقدامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس نے ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوتین نیز دنیا کے دیگر ممالک کے سربراہوں کے ساتھ ٹرمپ کی ٹیلی فونی گفتگو کا پتہ لگانے کا فیصلہ کرچکی ہے۔امریکی ایوان نمائندگان کی انٹیلیجنس کمیٹی کے سربراہ نے این بی سی ٹی وی کو انٹرویودیتے ہوئے اپنی تشویش کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ میرا خیال ہے کہ امریکہ کی قومی سلامتی اور تحفظ کے لئے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ صدر نے اپنے انتخابی مفادات کے پیش نطر دنیا بھر کے سربراہان مملکت بالخصوص پوتین کے ساتھ ٹیلی فونی گفتگو میں کہیں ہماری سیکورٹی کو تو نقصان نہیں پہنچایا ہے؟امریکی کانگریس کی انٹیلیجنس کمیٹی کے سربراہ نے اعلان کیا ہے کہ ٹرمپ اور ان کے یوکرینی ہم منصب کے درمیان ہنگامہ خیز مکالمے کا راز فارش کرنے والے شخص کی اس کمیٹی میں موجودگی پر اتفاق ہوچکا ہے۔ایڈم شیف نے امید ظاہر کی کہ وہ بہت جلد اس کمیٹی میں حاضر ہوں گے کیونکہ کانگریس اس شخص کی پہچان چھپانے اور اس کے وکیلوں کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔امریکہ کے اینٹیلیجنس ادارے کے ایک اہلکار نے کہ جس کی پہچان ابھی ذرئع ابلاغ کے سامنے نہیں آئی ہے کانگریس میں ٹرمپ اور ان کے یوکرینی ہم منصب ولودیمیر زلنسکی کے درمیان ٹیلی فونی گفتگو کا راز فاش کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ دوہزار بیس کے صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کے سب سے بڑے ممکنہ حریف جوبائیڈن کے بیٹے ہنٹر بائیڈن کے خلاف مالی بدعنوانی کے الزام کی تحقیقات پر نظرثانی کی جائے۔کہا جا رہا ہے کہ ٹرمپ نے ٹیلی فونی رابطے سے پہلے اس سلسلے میں یوکرین پر دباؤ ڈالنے کے لئے اس ملک کے لئے امریکہ کی فوجی امداد کو معلق کر دیا اور صرف اس صورت میں مدد دینے پر اتفاق کیا جب زلنسکی نے بائیڈن کی فائل آگے بڑھانے کا یقین دلایا ۔اب تک کانگریس کے کم سے دوسو پچیس ممبران ، ٹرمپ کے مواخذے کی حمایت کرچکے ہیں اور ایوان نمائندگا کی اسپیکر ننسی پلوسی نے اس مواخذے کے بارے میں کانگریس کی باقاعدہ تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس