تاریخ شائع کریں۸ مهر ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۸:۵۷
خبر کا کوڈ : 438809

وکی لیکس کے بانی جولین اسانج پر تشدد میں امریکہ ملوث ہے

امریکہ کے اشارے پر وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کے ساتھ انتہائی برا سلوک کیا جا رہا ہے
وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کے والد نے برطانیہ کے اہلکاروں پر الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے اشارے پر جولین اسانج کے ساتھ انتہائی برا سلوک کیا جا رہا ہے۔
وکی لیکس کے بانی جولین اسانج پر تشدد میں امریکہ ملوث ہے
امریکہ کے اشارے پر وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کے ساتھ انتہائی برا سلوک کیا جا رہا ہے۔
وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کے والد نے برطانیہ کے اہلکاروں پر الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے اشارے پر جولین اسانج کے ساتھ انتہائی برا سلوک کیا جا رہا ہے۔
ان کے والد نے کہا کہ میں اسانج سے آخری بار اگست میں ملا تھا اور اس دوران ان کی طبیعت انتہائی خراب دکھائی دی۔ ان کا وزن انتہائی کم ہو گیا ہے۔ یہ بہت تشویشناک ہے اور گزشتہ ایک سال میں ان کے اوپر تشدد میں اضافہ کردیا گیاہے۔
اس سے قبل وکی لیکس کے ایڈیٹرانچیف کرسٹین هرافنسن نے کہا تھا کہ وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کے ساتھ برطانیہ کے افسران دہشت گردوں سے بھی برا سلوک کر رہے ہیں اور انہیں عدالتی کارروائی کی تیاری کرنے سے روک رہے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ سال 2012 میں 11 اپریل کو اسانج کو لندن میں گرفتار کر لیا گیا تھا اور 50 ہفتے کی سزا سنائی گئی تھی۔ امریکہ نے اسانج کی حوالگی کے لئے برطانیہ سے درخواست بھی کی ہے اور انہیں امریکہ کو سونپنے کی بات بھی کہی جا رہی تھی۔ اسانج کی حوالگی کے معاملہ کی اگلی سماعت 25 فروری 2020 کو طے ہے۔
خیال رہے اسانج تب شہ سرخیوں میں آئے تھے جب سال 2010 میں انہوں نے کئی خفیہ سیاسی دستاویزات انٹرنیٹ پرعام کیے تھے جس میں افغانستان اور عراق میں امریکی فوج کی طرف سے کئے گئے جنگی جرائم کے غلط استعمال سے منسلک دستاویزات بھی شامل تھے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس