تاریخ شائع کریں۲۹ شهريور ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۵:۱۹
خبر کا کوڈ : 437806

حزب اللہ کے پاس پیشرفتہ میزائل اسرائیل کیلیے بڑا خطرہ ہے

یہ واقعات اسرائیل کے اندر حزب اللہ کی جانب سے بکتر بند گاڑی کی تباہی کے ایک ہفتے بعد رونما ہوئے ہیں
ابھی حال ہی میں تین واقعات اس طرح رونما ہوئے ہیں جو آنے والے حالات کی بہت واضح تصویر پیش کر سکتے ہیں ۔ یہ واقعات اسرائیل کے اندر حزب اللہ کی جانب سے بکتر بند گاڑی کی تباہی کے ایک ہفتے بعد رونما ہوئے ہیں
حزب اللہ کے پاس پیشرفتہ میزائل اسرائیل کیلیے بڑا خطرہ ہے
ابھی حال ہی میں تین واقعات اس طرح رونما ہوئے ہیں جو آنے والے حالات کی بہت واضح تصویر پیش کر سکتے ہیں ۔ یہ واقعات اسرائیل کے اندر حزب اللہ کی جانب سے بکتر بند گاڑی کی تباہی کے ایک ہفتے بعد رونما ہوئے ہیں ۔
پہلے واقعے میں حزب اللہ نے یہ اعلان کیا کہ اس نے لبنان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے اسرائیلی ڈرون طیارے کو سرنگوں کر دیا اور اس کا ملبہ اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔
دوسرا واقعہ اسرائیل کے حکومتی بیان میں اس بات کا اعتراف کیا جانا ہے کہ ایران کی سپاہ پاسداران آئی آر جی سی سے متعلق نیٹ ورک کے ذریعے اسرائیل پر متعدد میزائل فائر کئے گئے ہیں۔ یہ سب میزائل جنوبی دمشق سے فائر کئے گئے۔
تیسرا واقعہ اسرائیلی جنگی طیاروں کے ذریعے شام کے البو کمال علاقے میں ایران کی حمایت یافتہ عراقی تنظیموں حشد الشعبی یا عراقی حزب اللہ کی زیر تعمیر فوجی چھاونی پر بمباری ہے۔ اس بمباری میں 18 افراد کے شہید ہونے کی اطلاع ہے۔
ان تینوں واقعات میں ایک چیز مشترک ہے اور وہ ہے اسرائیل۔ اس نے یا تو حملہ کیا ہے یا اس پر حملہ کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب صاف ہے کہ لبنان، شام اور عراقی سرحدوں پر اسرائیل کے خلاف فوجی تصادم کا ماحول بن چکا ہے۔
اگر ہم حزب اللہ کے ہاتھوں اسرائیلی ڈرون کی سرنگونی کے واقعے کا جائزہ لیں تو کہنا چاہئے کہ یہ بہت فیصلہ کن واقعہ ہے۔ اس سے صاف ظاهر ہے کہ حزب اللہ کے پاس پیشرفتہ میزائل ہیں جو اس طرح کے طیاروں کو تباہ کر سکتے ہیں۔ 
جاری...
بشکریہ
رای الیوم
عبد الباری عطوان
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس