تاریخ شائع کریں۲۷ شهريور ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۸:۳۹
خبر کا کوڈ : 437723

ایران پر حملے کیلیے ریاض کو زیادہ پیسے خرچ کرنے ہوں گے

سعودی حکومت نے ایران کو اپنی تیل کی تنصیبات پر یمن کے تباہ کن ڈرون حملے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے دعوی کیا ہے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا سعودی حکومت کے دفاع کے لئے تیار ہے لیکن اس کے لئے ریاض کو زیادہ پیسے خرچ کرنے ہوں گے۔
ایران پر حملے کیلیے ریاض کو زیادہ پیسے خرچ کرنے ہوں گے
سعودی حکومت نے ایران کو اپنی تیل کی تنصیبات پر یمن کے تباہ کن ڈرون حملے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ یمن نے یہ حملے ایرانی ہتھیاروں سے انجام دیئے ہیں۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا سعودی حکومت کے دفاع کے لئے تیار ہے لیکن اس کے لئے ریاض کو زیادہ پیسے خرچ کرنے ہوں گے۔
سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے پیر کی شب جاری کیے جانے والے بیان میں ایران کے خلاف الزام تراشی کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ آرامکو کے تیل صاف کرنے والے کارخانوں پر حملے ایرانی ہتھیاروں سے کیے گئے ہیں۔
بیان میں عالمی ہمدردی بٹورنے اور یمن کے خلاف سعودی جنگی جرائم سے رائے عامہ کی توجہ ہٹانے کی غرض سے یہ دعوی بھی کیا گیا ہے کہ سعودی تیل کی تنصیابات پر حملہ دراصل تیل کی عالمی سپلائی لائن پر حملہ ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاوس میں بحرین کے ولی عہد سے بات چیت کرتے ہو‏ئے، اپنے وزیر خارجہ مائک پومپیو کی طرح کوئی ثبوت پیش کیے بغیر ایران کو سعودی تیل کی تنصیبات پر حملے کا ذمہ دار قرار دیا۔ٹرمپ نے ساتھ ہی یہ بات زور دے کر کہی کہ امریکہ سعودی عرب کے دفاع کے لیے تیار ہے بشرطیکہ سعودی حکام اس کے اخراجات ادا کرنے پر راضی ہوں۔
امریکی صدر نے، سعودی تیل کی تنصیبات پر حملے کے معاملے میں، جس کے بارے میں واشنگٹن کا دعوی ہے کہ ایران کا کام ہے، یہ بات زور دے کر کہی کہ امریکہ کسی بھی صورت میں ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا۔اسی کے ساتھ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر سعودی عرب سے مطالبہ کیا کہ وہ واشنگٹن کی حمایت کی قیمت انہیں ادا کرے۔
امریکی صدر اس سے پہلے بھی کئی بار سعودی حکمرانوں کو دودھ دینے والی گائے قرار دے چکے ہیں اورانہوں نے اپنی ایک انتخابی تقریر میں کہا تھا کہ سعودی شاہی حکومت امریکہ کی حمایت کے بغیر پندرہ دن بھی قائم نہیں رہ سکتی۔
یہاں اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ یمن کی مسلح افواج اور عوامی رضاکار فورس نے ہفتے کے روز کیے جانے والے اب تک کے سب سے بڑے حملے میں بیک وقت دس ڈرون طیاروں کے ذریعے بقیق اور خریص کی آئل ریفائنریوں کو نشانہ بنایا تھا۔امریکی حکام نے ایران کے خلاف اپنے من گھڑت دعوے کا اعادہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ سعودی تیل کی تنصیبات پر یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے ڈرون حملوں میں ایران کا ہاتھ ہے۔
درایں اثنا یورپی یونین نے تمام فریقوں سے صبر و تحمل سے کام لینے کی اپیل کی ہے۔ یورپی یونین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر حملے کی حقیقت واضح ہوئے بغیر، کسی کو اس کا ذمہ دار ٹھہرانے سے گریز کیا جائے۔
یمن کے امور میں اقوام متحدہ کے نمائندے مارٹن گریفتھس نے بھی امریکی الزام تراشیوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی تیل کی تنصیات پر حملے کا ذمہ دار کون ہے یہ ابھی واضح نہیں ہے۔انہوں نے پیر کی شب اقوم متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کے دوان، یمن میں سعودی اتحاد کے جنگی جرائم اور ظالمانہ حملوں کی جانب کوئی اشارہ کیے بغیر کہا کہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ سعودی تیل کی تنصیابات پر حملہ کس نے کیا ہے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس