تاریخ شائع کریں۲۷ شهريور ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۸:۲۳
خبر کا کوڈ : 437718

کابل کے خودکش دھماکوں کی ذمہ داری طالبان نے قبول کرلی ہے

افغان طالبان نے کابل اور پروان میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے
افغانستان کے مرکزی صوبے پروان میں صدارتی انتخابات کے حوالے سے منعقدہ ریلی اور کابل میں امریکی سفارت خانے کے قریب ہونے والے خودکش حملوں میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد بڑھ کر اب 48 ہو گئی جبکہ درجنوں افراد زخمی ہیں
کابل کے خودکش دھماکوں کی ذمہ داری طالبان نے قبول کرلی ہے
افغان طالبان نے کابل اور پروان میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔
افغانستان کے مرکزی صوبے پروان میں صدارتی انتخابات کے حوالے سے منعقدہ ریلی اور کابل میں امریکی سفارت خانے کے قریب ہونے والے خودکش حملوں میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد بڑھ کر اب 48 ہو گئی جبکہ درجنوں افراد زخمی ہیں۔
بم ڈسپوزل اسکواڈ کے مطابق یہ مقناطیسی بم کا دھماکا تھا جسے ایک پولیس موبائل میں نصب کیا گیا تھا۔ صوبائی حکومت کی خاتون ترجمان وحیدہ شاہکار نے بتایا کہ افغان صدر کا جلسہ اور ریلی جاری تھی کہ اس دوران داخلی مقام پر دھماکا ہوا۔ جاں بحق ہونے والوں میں خواتین اور بچوں سمیت عام شہری بھی شامل ہیں۔
افغان طالبان نے کابل اور پروان میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔
افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کابل اور پروان میں ہونے والے خودکش حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ افغانستان میں  دو بار ملتوی ہونے کے بعد  رواں ماہ بروز ہفتہ 28 ستمبر 2019ء کو انتخابات کا اعلان کیا گیا ہے۔
قبل ازیں ان صدارتی انتخابات کا انعقاد 20اپریل کو ہونا تھا لیکن انہیں جولائی کے اواخر تک ملتوی کر دیا گیا تھا۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس