تاریخ شائع کریں۲۷ شهريور ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۸:۰۷
خبر کا کوڈ : 437715

امریکی پابندیوں نے کمپنی کو نقصان پہنچانے کی بجائے زیادہ سخت جان بنادیا ہے

اسلامی جمہوریہ ایران کی طرح چینی اسمارٹ فون کمپنی ہواوے پر بھی امریکی پابندیاں کارگر ثابت نہیں ہوئیں
امریکی پابندیوں نے کمپنی کو نقصان پہنچانے کی بجائے زیادہ سخت جان بنادیا ہے جو اب اپنی اہم ترین مصنوعات کے وسائل پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے
امریکی پابندیوں نے کمپنی کو نقصان پہنچانے کی بجائے زیادہ سخت جان بنادیا ہے
اسلامی جمہوریہ ایران کی طرح چینی اسمارٹ فون کمپنی ہواوے پر بھی امریکی پابندیاں کارگر ثابت نہیں ہوئیں۔
خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق ہواوے کا کہنا ہے کہ امریکی پابندیوں نے کمپنی کو نقصان پہنچانے کی بجائے زیادہ سخت جان بنادیا ہے جو اب اپنی اہم ترین مصنوعات کے وسائل پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ہواوے کو امریکی ٹیکنالوجی تک رسائی نہ دینے کے انتباہ سے بہت پہلے ہی اس چینی ٹیلی کام کمپنی نے امریکی سپلائرز پر انحصار کرنے کے لیے تحقیق کے لیے سرمایہ لگانا شروع کردیا تھا۔
واضح رہے کہ ہواوے ٹیکنالوجیز لمیٹڈ دنیا میں سام سنگ کے بعد دوسری بڑی اسمارٹ فون کمپنی ہے اور فون نیٹ ورکس کے سوئچنگ گیئر بنانے والی سب سے بڑی کمپنی ہے جس کے آلات 50 میں سے 45 بڑے فون کیرئیرز استعمال کررہے ہیں۔
اب ہواوے 5 جی ٹیکنالوجی کی قیادت بھی سنبھالے ہوئے ہے اور نیکسٹ جنریشن ٹیکنالوجی صرف تیز تر انٹرنیٹ نہیں بلکہ خودکار ڈرائیونگ کی صلاحیت رکھنے والی گاڑیوں اور دیگر مستقبل کی مصنوعات کو بھی سپورٹ فراہم کرے گی۔
امریکا کا دعویٰ ہے کہ ہواوے ممکنہ طور پر چین کو جاسوسی میں مدد دیتی ہے، جس کی تردید یہ کمپنی کرچکی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ امریکی حکام نے کسی قسم کے شواہد فراہم نہیں کیے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس