تاریخ شائع کریں۲۶ شهريور ۱۳۹۸ گھنٹہ ۲۱:۰۷
خبر کا کوڈ : 437611

صدر روحانی کی روسی ہم منصب سے ملاقات میں ایٹمی معاہدے پر تبادلہ خیال

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے ترکی میں منعقدہ سہ فریقی اجلاس کے موقع پر اپنے روسی ہم منصب سے ملاقات کی
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے ترکی میں منعقدہ سہ فریقی اجلاس کے موقع پر اپنے روسی ہم منصب سے ملاقات کی
صدر روحانی کی روسی ہم منصب سے ملاقات میں ایٹمی معاہدے پر تبادلہ خیال
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے ترکی میں منعقدہ سہ فریقی اجلاس کے موقع پر اپنے روسی ہم منصب سے ملاقات کی۔
ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں شام سے متعلق اسلامی جمہوریہ ایران، روس اور ترکی کے درمیان سہ فریقی سربراہی اجلاس کا انعقاد کیا گیا ۔ اس اجلاس کے موقع پر صدر مملکت حسن روحانی نے اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتین کے ساتھ ملاقات کی۔اس ملاقات میں دوطرفہ ، علاقائی اور عالمی امور کے بارے میں  تبادلہ خیال کیاگیا۔
اس موقع پر حسن روحانی نے کہا کہ جوہری معاہدہ ایک اہم عالمی معاہدہ ہے اور ایران معاہدے کےفریقین کی جانب سے اپنے وعدوں پر عمل در آمد کی صورت میں اپنے وعدوں پر عمل در آمد  کر سکتا ہے۔
صدر مملکت نے جوہری معاہدے سے امریکہ کے انخلا کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے کے دوسرے فریق خاص طور سے روس جوہری معاہدے کے تحفظ کیلئے اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
حسن روحانی نے ایران اور روس کے بہتر تعلقات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات ماضی کی نسبت گہرے اور قریبی ہیں۔
اس ملاقات میں روس کے صدر ولادیمیر پوتین نے کہا کہ روس کا موقف ہے کہ جوہری معاہدے کا تحفظ کیا جائے اور اس سلسلے میں روس اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
روس کے صدر نے کہا کہ ایران اور روس کے تعلقات اچھے، گہرے ہیں اور مزید فروغ پا رہے ہیں اور  تہران اور ماسکو عالمی سطح پر خاص طور سے اقوام متحدہ، شنگھائی کانفرنس اور ایروایشیا اقتصادی یونین میں اچھے اور مثبت تعاون کر رہے ہیں۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایران اور روس کے درمیان تعلقات سنہرے دور میں داخل ہوچکے ہیں اور دونوں ممالک کا بہت سے اہم علاقائی اور بین الاقوامی مسائل  میں مشترکہ موقف ہے۔اس کے علاوہ ایران اور روس کے اعلی حکام بدستور ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں ہیں۔
واضح رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی ترکی کا دورہ مکمل کرنے کے بعد تہران واپس پہنچ گئے۔
اس دورے میں انہوں نے اپنے تر ک ہم منصب رجب طیب اردوغان سے بھی ملاقات کی۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس