تاریخ شائع کریں۲۴ شهريور ۱۳۹۸ گھنٹہ ۲۱:۳۰
خبر کا کوڈ : 437344

صدر روحانی سہ فریقی اجلاس میں شرکت کیلیے ترکی روانہ ہوگئے

سہ فریقی اجلاس میں شرکت کی غرض سے انقرہ روانگی سے قبل تہران ایئر پورٹ پر صحافیوں سے گفتگو
صدر ایران ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا ہے کہ امریکی مداخلت اور صیہونی حکومت کی جارحیت کا خاتمہ خطے کی سلامتی اور استحکام کے حصول کا واحد راستہ ہے
صدر روحانی سہ فریقی اجلاس میں شرکت کیلیے ترکی روانہ ہوگئے
صدر ایران ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا ہے کہ امریکی مداخلت اور صیہونی حکومت کی جارحیت کا خاتمہ خطے کی سلامتی اور استحکام کے حصول کا واحد راستہ ہے۔
ایران ، ترکی اور روس پر مشتمل سہ فریقی اجلاس میں شرکت کی غرض سے انقرہ روانگی سے قبل تہران ایئر پورٹ پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے صدر حسن کا کہنا تھا کہ سلامتی کا معاملہ تینوں ملکوں کے لئے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔انہوں نے کہا شام کو ملا کر ایران، ترکی اور روس ایک ہی خطے میں آباد ہیں۔صدر نے کہا کہ شام کے عوام پچھلے نو سال سے دہشت گردی سمیت متعدد مسائل اور مشکلات کا شکار ہیں۔انہوں نے کہاکہ مشرقی فرات کا علاقہ امریکی فوج کی موجودگی کی وجہ سے بدستور بدامنی کا شکار ہے۔ جبکہ اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے حملوں اور دہشت گردوں کی حمایت انتہائی تشویشناک ہے۔صدر کا کہنا ہے کہ ہم بارہا اعلان کرچکے ہیں کہ خطے کے مسائل کو خطے کے ممالک کے درمیان تعاون اور مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ امریکہ کے غلط اقدامات کے نتیجے میں پورا خطے بحران کا شکار ہے اور عام لوگوں کو دشوار صورتحال کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ یمن کے خلاف جنگ میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی صرف مدد ہی نہیں کر رہا بلکہ حملوں کی منصوبہ بندی میں بھی شریک ہے۔صدر ایران نے واضح کیا کہ خطے میں امریکی مداخلت اور اسرائیلی جارحیت کا خاتمہ ہی امن و سلامتی کے حصول کا واحد راستہ ہے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس