تاریخ شائع کریں۲۴ شهريور ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۶:۴۰
خبر کا کوڈ : 437305

مسلمانوں کے درپیش مسائل کے حل تلاش کرنا سب کی ذمہ داری ہے

مجمع جہانی کے تقریب مذاہب اسلامی کے مشاور عالی " منوچھر متکی" نے کہا
تقریب مذاہب اسلامی کی عالمی اسمبلی کے سیکریٹری جنرل نے امت اسلامیہ کے اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مسلمان اقوام آج کی دنیا میں اپنی صفوں میں اتحاد کے ذریعے ہی اپنا وجود باقی رکھ سکتی ہیں
مسلمانوں کے درپیش مسائل کے حل تلاش کرنا سب کی ذمہ داری ہے

تقریب خبر رساں ایجنسی کے مطابق مجمع جہانی کے تقریب مذاہب اسلامی کے مشاور عالی " منوچھر متکی" نے ترکی میں منعقد ہونی والی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا " مسلمانوں کی مشکلات کے حل کی ذمہ داری پوری امت مسلمہ کی ہے اور اس ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے سب کو اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔ تمام اسلامی ممالک ہاں پر اسلامی حکموت قائم ہے وہ ان ممالک کے مسلمان بھی جہاں پر اسلامی حکومت موجود نہیں ہے، سب کی ذمہ داری ہے کہ جہاں پر بھ مسلمانوں پر ظلم ہو سب مل کر مسلمانوں کے حق میں آواز اٹھائیں۔
تقریب مذاہب اسلامی کی عالمی اسمبلی کے سیکریٹری جنرل نے امت اسلامیہ کے اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مسلمان اقوام آج کی دنیا میں اپنی صفوں میں اتحاد کے ذریعے ہی اپنا وجود باقی رکھ سکتی ہیں۔
تقریب مذاہب اسلامی کی عالمی اسمبلی کے سیکریٹری جنرل آیت اللہ محسن اراکی نے ہفتے کو انقرہ میں اسلامی اتحاد اور فلسطین و عالم اسلام کا مستقبل کے زیرعنوان منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ فلسطین صرف فلسطین تک محدود نہیں ہے بلکہ فلسطین کا مسئلہ پورے عالم اسلام کا مسئلہ ہے۔
آیت اللہ اراکی نے اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہا صیہونی دشمن اگر کامیاب ہوجائے گا تو فلسطین کے ٹکڑے ٹکڑے کردے گا، مسجد الاقصی کا نام ونشان مٹادے گا اور اس سے سبھی مسلمانوں کو نقصان پہنچے گا کہا کہ آج امت اسلامیہ  کی شناخت اور تشخص کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن نے مسلمانوں کے درمیان داخل ہو کر امت اسلامیہ میں اختلافات کا بیج بو دیا ہے اور دشمن کا اصل مقصد اسلامی تشخص اور پہنچان کا ختم کردینا ہے۔ آیت اللہ محسن اراکی نے امت اسلامیہ کے اتحاد کو ایک ضرورت قراردیا اور کہا کہ اسلامی اتحاد کے ذریعے ہی ہم  عالم اسلام کو ایک بڑی طاقت میں تبدیل کرسکتے ہیں۔ انقرہ میں اسلامی اتحاد اور فلسطین وعالم اسلام کا مستقبل کے زیرعنوان بین الاقوامی کانفرنس میں دنیا کے بیس ملکوں منجملہ ایران، جرمنی، لبنان، ہندوستان، مراکش، بنگلہ دیش اور جنوبی افریقا جیسے ملکوں کے دانشوروں نے شرکت کی۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس