تاریخ شائع کریں۲۳ شهريور ۱۳۹۸ گھنٹہ ۲۱:۴۶
خبر کا کوڈ : 437205

اگر سعودی عرب جارحیت سے باز نہ آیا تو ریاض پر تصرف کرلیں گے

سعودی عرب کی تزویراتی گہرائی میں کیے جانے والے اب تک کے سب سے بڑے حملے
یمن کی مسلح افواج کے ترجمان نے سعودی عرب کی تزویراتی گہرائی میں کیے جانے والے اب تک کے سب سے بڑے حملے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا
اگر سعودی عرب جارحیت سے باز نہ آیا تو ریاض پر تصرف کرلیں گے
یمن کی مسلح افواج کے ترجمان نے سعودی عرب کی تزویراتی گہرائی میں کیے جانے والے اب تک کے سب سے بڑے حملے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حملے میں بیک وقت دس ڈرون طیاروں نے بقیق اور حریض کی آئل ریفائنریوں کو نشانہ بنایا ہے۔
ہفتے کی صبح ذارئع ابلاغ نے سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں واقع سب سے بڑی تیل کمپنی آرامکو کی تنصیبات میں زبردست دھماکوں اور بڑے پیمانے پر آتشزدگی کی خبریں جاری کی تھیں۔سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے بھی اعتراف  کیا ہے کہ مشرقی علاقے میں واقع آرمکو کے دو پلانٹ کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔بعد ازاں یمن کی مسلح افواج کے ترجمان یحی السریع نے صنعا میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیا کہ یہ ڈرون حملے  یمن پر سعودی جارحیت کے جواب میں  کیے گئے ہیں اور آئندہ ایسے مزید حملے کیے جائیں گے۔انہوں نے  کہا کہ ہفتے کی کارروائی اب تک کی سب سے بڑی کارروائی ہے جس کے دوران یمنی فوج نے سعودی دشمن کی تزویراتی گہرائی میں پہنچ کر اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔یمنی کی مسلح افواج کے ترجمان نے کہا کہ گہری انٹیلی جینس معلومات اور سعودی عرب میں موجود اس ملک کے غیرت دار شہریوں کے تعاون سے کیے جانے والے اس حملے میں بقیق اور خریص کی آئل ریفائنریوں پر حملے کیے گئے ہیں۔بقیق آئل فیلڈ کا شمار سعودی عرب کی سب سے بڑی آئل فیلڈ میں ہوتا ہے جہاں ایک اندازے کے مطابق ایک ارب بیرل تیل کا ذخیرہ موجودہ ہے۔بقیق اور خریص کی آئل ریفائنرویوں پر یمنی فوج کے ڈرن حملوں کے تناظر میں اہم بات یہ ہے کہ یمن کی فوج اور عوامی رضاکار فورس جنگ جاری رکھنے کے خواہاں نہیں بلکہ یہ حملے محض دفاع اور ڈیٹرنس کے طور پر کیے جارہے ہیں تاکہ سعودی عرب کو اس غیر انسانی جنگ کے خاتمے پر مجبور کیا جاسکے۔یمن کی عوامی تحریک انصاراللہ کے پولیٹیکل آفس کے سینیئر رکن محمد البخیتی نے الجزیرہ ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے  خـبر دار کیا ہے کہ اگر سعودی  عرب نے یمن کے خلاف جنگ بند نہ کی تو پھر ہمارے مجاہدین دارالحکومت ریاض کو بھی اپنے حملوں کا نشانہ بنائیں گے۔اس صورتحال میں جنگ یمن کے حوالے سے سعودی عرب کی اسٹریٹیجی میں تبدیلی کی توقع کی جاسکتی ہے۔ کیونکہ جنگ اس قدر طولانی ہوچکی ہے کہ سعودی عرب کے مفاد میں نہیں اور اس کو جنگ یمن کی دلدل سے خود کو باہر نکالنے کی کوشش کرنا ہوگی۔ بصورت دیگر اسے آل سعودی کو ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس