تاریخ شائع کریں۲۱ شهريور ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۵:۲۴
خبر کا کوڈ : 437005

وادی اردن کو مقبوضہ فلسطین میں ضم کرنے کا اعلان خبیث سازش ہے

فلسطین کے وزیر خارجہ ریاض المالکی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے اپیل کی ہے
صیہونی حکومت کے وزیراعظم کی جانب سے وادی اردن کو مقبوضہ فلسطین میں ضم کرنے کے خباثت آمیز اعلان کی بنا پر اسرائیل کے خلاف پابندیاں عائد کرے
وادی اردن کو مقبوضہ فلسطین میں ضم کرنے کا اعلان خبیث سازش ہے
فلسطین کے وزیر خارجہ ریاض المالکی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے اپیل کی ہے کہ وہ صیہونی حکومت کے وزیراعظم کی جانب سے وادی اردن کو مقبوضہ فلسطین میں ضم کرنے کے خباثت آمیز اعلان کی بنا پر اسرائیل کے خلاف پابندیاں عائد کرے۔
رام اللہ میں لکسمبرگ کے وزیر خارجہ جان ایسلبرن سے بات چیت کرتے ہوئے فلسطین کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ انتخابی فائدہ اٹھانے کی غرض سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کو یہودیانا اور صیہونی بستیوں کی تعمیر میں شدت پیدا کرنا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلی توہین ہے۔فلسطین کے وزیر خارجہ نے اسرائیل کے جانب سے سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کا سلسلہ رکوانے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات عمل میں لانے کا بھی مطالبہ کیا۔لکسمبرگ کے وزیر خارجہ جان ایسلبرن نے اس موقع پر فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کے تمام آزار دھندہ اقدامات کو ناقابل تحمل قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی۔دوسری جانب حزب اللہ لبنان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے وادی اردن کو ضم کرنے کا اعلان فلسطینیوں کے حقوق پر کھلی ڈاکہ زنی ہے۔حزب اللہ کے بیان میں یہ بات زور دے کر کہی گئی ہے کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینی علاقوں کو یہودیانے کا ہراقدام ناجائز ہے اور فلسطین کے عوام صیہونی وزیراعظم کی اس کوشش کو ناکام بنا دیں گے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ خلیج فارس کے عرب ملکوں کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے قیام اور گٹھ جوڑ نے نیتن یاھو کے ذہن میں زیادہ سے زیادہ عرب علاقوں کو ہتھیانے کی سوچ قوی کردی ہے۔روس کی وزارت خارجہ نے بھی ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ نیتن یاھو کی جانب سے فلسطینی علاقوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کی کوششوں کے نتیجے میں خطے کی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا۔ایران کی وزارت خارجہ نے بھی وادی اردن کو اسرائیل میں ضم کرنے کے بارے میں صیہونی حکومت کے وزیراعظم کے اعلان کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سید عباس موسوی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ نتن یاہو نے انتخابات میں کامیابی کی صورت میں وادی اردن کو اسرائیل میں ضم کرنے کا اعلان کرکے دراصل اپنی خباثت اور بدنیتی کو ظاہر کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ نیتین یاھو کبھی ایران کے خلاف اور کبھی فلسطین کے دیگر علاقوں کو ہتھیانے کا اعلان کرکے صیہونیوں کے ووٹ بٹورنے کی کوشش کرتے ہیں جو ان کی خـباثت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔سید عباس موسوی نے اسلامی تعاون تنظیم کے مجوزہ اجلاس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اسرائیل کی توسیع پسندی کا راستہ روکنے کی غرض سے کیے جانے والے ہر اقدام کی بھرپور حمایت کرے گا۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اینٹونیو گوترش نے بھی وادی اردن کو اسرائیل میں ضم کرنے کے بارے میں صیہونی حکومت کے وزیر اعظم نیتن یاھو کے انتخابی اعلان کو عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ نیتن یاھو کے اس اقدام سے علاقے کی کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔صیہونی وزیراعظم نیتن یاہو نے منگل کو اعلان کیا ہے کہ آئندہ انتخابات میں کامیابی کی صورت میں وادی اردن کے پورے علاقے کو اسرائیل میں ضم کرلیا جائے گا۔دنیا کے بہت سے ملکوں اور عالمی تنظیموں کی جانب سے صیہونی حکومت کے وزیراعظم نیتن یاھو کے اس اعلان کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس