تاریخ شائع کریں۱۹ شهريور ۱۳۹۸ گھنٹہ ۲۱:۲۸
خبر کا کوڈ : 436861

طالبان کے ساتھ ازسرنو امن مذاکرات کے لیے نئی اور کڑی شرائط ہوں گے

امریکا نے افغان طالبان کے ساتھ ازسرنو امن مذاکرات کے لیے نئی اور کڑی شرائط رکھ دیں
امریکی صدر ٹرمپ نے کابل میں طالبان کے خود کش حملے میں ایک امریکی فوجی کی ہلاکت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے امن مذاکرات کے خاتمے کا اعلان کردیا
طالبان کے ساتھ ازسرنو امن مذاکرات کے لیے نئی اور کڑی شرائط ہوں گے
امریکا نے افغان طالبان کے ساتھ ازسرنو امن مذاکرات کے لیے نئی اور کڑی شرائط رکھ دیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے کابل میں طالبان کے خود کش حملے میں ایک امریکی فوجی کی ہلاکت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے امن مذاکرات کے خاتمے کا اعلان کردیا تھا جس پر طالبان نے بھی جواب میں سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ مذاکرات کی منسوخی کا سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان خود امریکا کو اُٹھانا پڑے گا۔
اس پیشرفت کے بعد سے مذاکرات تاحال تعطل کا شکار ہیں تاہم وزیر خارجہ مائیک پومپیو امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے مذاکرات کی بحالی کے لیے پُر امید نظر آئے تاہم اس بار افغان طالبان کے ساتھ دوبارہ امن مذاکرات کو چند اقدامات سے مشروط قرار دے دیا۔
وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا مزید کہنا تھا کہ امن عامہ کی حالت بہتر ہونے پر ہی امریکا اپنے فوجی افغانستان سے واپس بلائے گا جس کے لیے امریکی فوجیوں نے اپنی جانیں دی ہیں اور امریکی حکومت نے 17 سال سے اپنے وسائل اور لاکھوں ڈالر لگائے ہیں۔
واضح رہے کہ قطر میں افغان طالبان اور امریکا کے درمیان امن مذاکرات حتمی مرحلے میں داخل ہوچکے تھے اور فریقین کے درمیان ایک خفیہ ملاقات جنگ زدہ علاقے میں بھی طے تھی کہ کابل میں خود کش دھماکے میں امریکی فوج دہشتگرد سمیت 11 افراد ہلاک ہوگئے جس پر صدر ٹرمپ نے طالبان پر اپنی من مانی شرائط مسلط کرنے کے لیے دھماکا کرنے کا الزام لگا کر مذاکرات کی منسوخی کا اعلان کردیا تھا۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس