تاریخ شائع کریں۱۸ شهريور ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۵:۳۷
خبر کا کوڈ : 436792

طالبان دہشتگردی بجائے مذاکرات کی راہ اختیار کریں

طالبان کو ملک میں خود کش حملوں اور پُرتشدد کارروائیوں کو روک کر مذاکرات کی میز پر آنا چاہیئے
امریکہ سے مذاکرات کی منسوخی کے بعد افغان صدر اشرف غنی نے طالبان کو دعوت دی ہے کہ پُرتشدد کارروائیاں روک کر حکومت کے ساتھ بغیر کسی ثالث کے براہ راست مذاکرات کریں
طالبان دہشتگردی بجائے مذاکرات کی راہ اختیار کریں
امریکہ سے مذاکرات کی منسوخی کے بعد افغان صدر اشرف غنی نے طالبان کو دعوت دی ہے کہ پُرتشدد کارروائیاں روک کر حکومت کے ساتھ بغیر کسی ثالث کے براہ راست مذاکرات کریں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق افغان صدر اشرف غنی کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ طالبان کو ملک میں خود کش حملوں اور پُرتشدد کارروائیوں کو روک کر مذاکرات کی میز پر آنا چاہیئے، افغان حکومت طالبان کو کسی ثالث کے بغیر براہ راست امن مذاکرات کی پیشکش کرتی ہے۔
افغان صدرکی جانب سے جنگ بندی اور مذاکرات کی دعوت پر طالبان نے کوئی ردعمل نہیں دیا۔ عالمی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے ترجمان طالبان کا کہنا تھا کہ بدلتی صورت حال پر مشاورت جاری ہے اور تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان کے کابل حملے میں امریکی دہشتگرد فوجی اہلکار کی ہلاکت پر برہم ہوتے ہوئے گزشتہ روز اچانک قطر میں ہونے والے امن مذاکرات کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس