تاریخ شائع کریں۱۶ شهريور ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۶:۵۰
خبر کا کوڈ : 436589

مسلمانوں کے اختلافات مسلمانوں میں جدائی کا سبب نہیں بنے چاہیں

امام خمینی ؒ نے فرمایا: مسلمانوں کے اختلافات کسی بھی صورت میں مسلمانوں میں جدائی کا باعث نہیں بنا چاہیے
مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد سنی ہے اور دوسری شیعہ، اور پھر ان میں کوئی حنبلی ہے تو کوئی حنفی اور کوئی اخباری ہے۔ سب کا جذبہ اسلام کی خدمت کا ہے
مسلمانوں کے اختلافات مسلمانوں میں جدائی کا سبب نہیں بنے چاہیں
مسلمانوں کے اختلافات مسلمانوں میں جدائی کا سبب نہیں بنے چاہیں
تقریب خبر رساں ایجنسی کے مطابق مسلمانوں میں وحدت کی اہمیت کو فروغ دینے کے عنوان سے علماء اور دانشمندوں کی آراء کو پیش کیا جارہا ہےکیوں کہ دشمن کے مقابلے میں وحدت اور اپنی صفوں میں نظم بہت ہی ضروری ہے اور یہ عالم اسلام کے دلسوز شخصیات کی دلی آرزو ہونے کے ساتھ ساتھ جمہوری اسلامی ایران کا بھی ہدف ہے ۔
لیکن بعض افراد گمان کرتے ہیں کہ وحدت کا مطلب یہ ہے کہ اپنے عقائد سے چشم پوشی کرکے دوسرے مذہب کو اختیار کریا جائے، جو کہ سراسر غلط اور گمراہ کن فکر ہے۔
اس مقدس ہدف کی بنیاد قرآن و سنت ہے جس میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ آس میں تفرقہ ایجاد نہ کریں، کیوں کہ مسلمانوں کے درمیان تفرقہ اللہ کی عنایات میں کمی کا باعث ہے اور مسلمانوں کی ذلت و رسوائی کا سب سے بڑا سبب بھی ہے۔
اگرمسلمانوں کے درمیان مشترکات پر ذرا بھی فکر کی جائے  تو معلوم ہوگا کہ ہمارے درمیان 90٪  اعتقادی اشتراکات پائے جاتے ہیں جس کو سنی و شیعہ دونوں علماء قبول کرتے  ہیں۔
امام خمینی ؒ نے فرمایا: مسلمانوں کے اختلافات کسی بھی صورت میں مسلمانوں میں جدائی کا باعث نہیں بنا چاہیے۔ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد سنی ہے اور دوسری شیعہ، اور پھر ان میں کوئی حنبلی ہے تو کوئی حنفی اور کوئی اخباری ہے۔ اصل میں اس تقسیم کو بیان کیا جانا ہی درست نہیں ہے کیوں کہ سب چاہتے ہیں کہ اسلام کی خدمت کریں جب سب کا جذبہ اسلام کی خدمت کا ہے تو اس قسم کی تقسیم کو بیان کیا جانا ہی درست نہیں ہے تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ یہ بات ضرور ہے کہ کوئی فقہ حنفی کی تقلید کرتا ہے کوئی حنبلی کی اور کوئی امام صادق علیہ السلام کی، سب اپنے مفتی کی تقلید کرتے ہیں اس میں کوئی بُری بات نہیں اور نہ ہی اس میں کسی قسم کا اختلاف ہوانا چاہیے۔"
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس