تاریخ شائع کریں۱۶ شهريور ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۶:۳۸
خبر کا کوڈ : 436588

وحدت کا ھدف یہ نہیں کہ شیعہ سنی اور سنی شیعہ ہوجائے

مسلمانوں کے درمیان وحدت اور اتحاد کا ھدف یہ نہیں کہ شیعہ سنی اور سنی شیعہ ہوجائیں
علامہ محمد تقی قمی ، شیعہ عالم بزرگ اور فقیہ شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور وحدت کے فروغ کے لیے زندگی بھر کوششاں رہے اور آپ نے مسلمانوں کے درمیان اتحاد کے لیے خواطر خواہ جدوجہد کی ہے
وحدت کا ھدف یہ نہیں کہ شیعہ سنی اور سنی شیعہ ہوجائے
وحدت کا ھدف یہ نہیں کہ شیعہ سنی اور سنی شیعہ ہوجائے
تقریب خبر رساں ایجنسی کے مطابق مسلمانوں میں وحدت کی اہمیت کو فروغ دینے کے عنوان سے علماء اور دانشمندوں کی آراء کو پیش کیا جارہا ہےکیوں کہ دشمن کے مقابلے میں وحدت اور اپنی صفوں میں نظم بہت ہی ضروری ہے اور یہ عالم اسلام کے دلسوز شخصیات کی دلی آرزو ہونے کے ساتھ ساتھ جمہوری اسلامی ایران کا بھی ہدف ہے ۔
لیکن بعض افراد گمان کرتے ہیں کہ وحدت کا مطلب یہ ہے کہ اپنے عقائد سے چشم پوشی کرکے دوسرے مذہب کو اختیار کریا جائے، جو کہ سراسر غلط اور گمراہ کن فکر ہے۔
اس مقدس ہدف کی بنیاد قرآن و سنت ہے جس میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ آس میں تفرقہ ایجاد نہ کریں، کیوں کہ مسلمانوں کے درمیان تفرقہ اللہ کی عنایات میں کمی کا باعث ہے اور مسلمانوں کی ذلت و رسوائی کا سب سے بڑا سبب بھی ہے۔
اگرمسلمانوں کے درمیان مشترکات پر ذرا بھی فکر کی جائے  تو معلوم ہوگا کہ ہمارے درمیان 90٪  اعتقادی اشتراکات پائے جاتے ہیں جس کو سنی و شیعہ دونوں علماء قبول کرتے  ہیں۔
علامہ محمد تقی قمی ، شیعہ عالم بزرگ اور فقیہ شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور وحدت کے فروغ کے لیے زندگی بھر کوششاں رہے اور آپ نے مسلمانوں کے درمیان اتحاد کے لیے خواطر خواہ جدوجہد کی ہے، آپ اکثر کہا کرتے تھے " مسلمانوں کے درمیان وحدت اور اتحاد کا ھدف یہ نہیں کہ شیعہ سنی اور سنی شیعہ ہوجائیں بلکہ شیعہ اور سنی دونوں اپنے اپنے عقائد پر باقی رہیں اور بلکہ اختلافات کو بھلا کر اشتراکات پر جمع ہوجائیں تاکہ دشمن مسلمانوں کو آپس میں  نا لڑاسکے۔ اہلیبیت رسول ﷺ  کی محبت مسلمانوں میں اتحاد کا سب سے بڑا اور محکم ذریعہ ہے کیوں تمام مسلمان اہلیبیت ؑ سے محبت کو دین کی اساس مانتے ہیں"۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس