تاریخ شائع کریں۱۳ شهريور ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۸:۰۳
خبر کا کوڈ : 436370

ایران تیسرے مرحلے پر عملدآمد کے لیے پوری طرح تیار ہے

کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایران ڈاکٹر حسن روحانی کا کہنا تھا
ایران کے صدر ایران ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا ہے کہ تہران ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کی سطح میں کمی کے تیسرے مرحلے پر عملدآمد کے لیے پوری طرح تیار ہے
ایران تیسرے مرحلے پر عملدآمد کے لیے پوری طرح تیار ہے
ایران کے صدر ایران ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا ہے کہ تہران ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کی سطح میں کمی کے تیسرے مرحلے پر عملدآمد کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
بدھ کو کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایران ڈاکٹر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ یورپ کے ساتھ ہنوز حتمی سمجھوتہ نہیں ہوسکا ہے لہذا ایران اپنے فیصلہ پر عملدرآمد شروع کردے گا۔صدر ایران نے کہا ہے  انتہا پسند امریکی عہدیداروں، نسل پرست صیہونی حکومت اور علاقے کی بعض رجعت پسند حکومتوں کا اس وقت وائٹ ہاؤس پر تسلط ہے اور ان ہی تین گروہوں کی وجہ سے امریکا نے ایٹمی معاہدے سے علیحدگی اختیار کی ہے ۔ صدر ایران نے ایٹمی معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی کے مقابلے میں ایران کے اقدامات اور اسٹریٹیجک صبر کو دانشمندانہ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ یورپی ملکوں کے ساتھ مذاکرات میں پیشرفت ضرور ہوئی ہے تاہم مقررہ مہلت کے اندر کسی سمجھوتے کا امکان دکھائی نہیں دیتا۔انہوں نے کہا ہے اسلامی جمہوریہ ایران ایٹمی معاہدے میں کمی کے تیسرے مرحلے کے اقدامات کا آج کل میں اعلان کردے گا۔صدر ڈاکٹر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ تیسرے مرحلے کے اقدامات بے انتہا اہمیت کے حامل ہیں جن  کے نتیجے میں ایران کا ایٹمی توانائی کا ادارہ اپنے طے شدہ اہداف تک رسائی کے لیے برق رفتاری کے ساتھ کام شروع کردے گا۔انہوں نے کہا کہ ایران تیسرے مرحلے کے اقدامات کے بعد بھی پورپی ملکوں کو دو ماہ کی مہلت دے گا اور اگر اس دوران سمجھوتہ ہونے کی صورت میں مذاکرات کا راستہ ہمیشہ کی طرح کھلا رہے گا۔قبل ازیں ایران کے سینیئر ایٹمی مذاکرات کار سید عباس عراقچی نے کہا تھا کہ اگر یورپی فریق ایٹمی معاہدے سےمتعلق اپنے وعدے پورا نہ کرسکا تو تہران چھے ستمبر سے ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کے تیسرے مرحلے کا آغاز کردے گا۔ جمہوریہ سلوینیہ میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے سید عباس عراقچی نے واضح کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اسی صورت میں دوبارہ ایٹمی معاہدے پر پوری طرح سے عمل کرے گا جب وہ اپنا تیل آزادی کے ساتھ فروخت کرسکے گا۔انہوں نے کہا کہ اب یہ بات یورپ پر منحصر ہے کہ وہ ایران سے تیل خریدتا ہے یا اس کے عوض کریڈٹ لائن قائم کرتا ہے۔ایران کے نائب وزیرخارجہ اور سینیئر ایٹمی مذاکرات کار نے یہ بات زور دے کر کہی کہ تہران کسی بھی صورت میں اپنی ریڈ لائن پر کسی سے بھی مذاکرات نہیں کرے گا۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس