تاریخ شائع کریں۱۳ شهريور ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۸:۰۰
خبر کا کوڈ : 436369

ایران کسی سے دوبارہ مذاکرات نہیں کرے گا

ایران کے نائب وزیرخارجہ اور سینیئر ایٹمی مذاکرات کار سید عباس عراقچی نے کہا ہے
ایران کے نائب وزیرخارجہ اور سینیئر ایٹمی مذاکرات کار سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایٹمی معاہدے کے بارے میں ایران کسی سے دوبارہ مذاکرات نہیں کرے گا
ایران کسی سے دوبارہ مذاکرات نہیں کرے گا
ایران کے نائب وزیرخارجہ اور سینیئر ایٹمی مذاکرات کار سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایٹمی معاہدے کے بارے میں ایران کسی سے دوبارہ مذاکرات نہیں کرے گا البتہ ایٹمی معاہدے پر صحیح طریقے سے عمل درآمد کے سلسلے میں بات چیت کرسکتا ہے۔
ایران کے نائب وزیرخارجہ سید عباس عراقچی نے جو پیرس میں فرانسیسی حکام سے مذاکرات کے بعد اسلوینیہ کے دورے پر ہیں نامہ نگاروں کے سوالوں کے جواب میں کہا کہ تیل کی فروخت اور اس سے حاصلہ آمدنی سے متعلق اسلامی جمہوریہ ایران کے مطالبات کی تکمیل کے بارے میں فرانسیسی حکام سے بات چیت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اسی صورت میں دوبارہ ایٹمی معاہدے پر پوری طرح سے عمل کرے گا جب وہ اپنا تیل پوری آزادی کے ساتھ فروخت کرسکے گا اور فرانس کی جو تجاویز ہیں وہ بھی اسی موضوع سے مربوط ہیں۔ ایران کے نائب وزیرخارجہ نے کہا کہ یورپ کو ایران سے تیل خریدنا ہے یا اس کے عوض اسے کریڈٹ لائن ایرن کے حوالے کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کریڈٹ لائن رواں سال کے آخری چار مہینے کے لئے  پندرہ ارب ڈالر کی ہے۔انہوں نے کہا کہ پندرہ ارب ڈالر مل جانے کے بعد ہی ایران چار جمع ایک گروپ کے ملکوں کے ساتھ بات چیت کرے گا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس بات چیت کے ایجنڈے کے بارے میں فریقین کے درمیان سنجیدہ اختلافات پائے جاتے ہیں۔ایران کے نائب وزیرخارجہ نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کسی بھی صورت میں اپنی ریڈ لائن پر کسی سے بھی مذاکرات نہیں کرے گا کہا کہ اگر یورپی فریق ایٹمی معاہدے سےمتعلق اپنے وعدوں کو پورا نہیں کرسکے تو تہران ایٹمی معاہدے سےمتعلق اپنے مزید کچھ وعدوں پر عمل درآمد کو معطل کرنے کے لئے تیسرا قدم بھی چھے ستمبر کو اٹھا لے گا۔اسلامی جمہوری ایران کے وزیرخارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے بھی رشیا ٹوڈے کے ساتھ اپنے انٹرویو میں کہا ہے کہ یورپی ملکوں نے ایٹمی معاہدے کی صحیح معنوں میں حمایت نہیں کی ہے اور وہ ایٹمی معاہدے کو باقی رکھنے کے لئے کوئی رسک لینے کے لئے تیار نہیں ہوئے۔ وزیرخارجہ ڈاکٹر جواد ظریف نے کہا کہ یورپی ملکوں کو یہ جان لینا چاہئے کہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے کے تعلق سے امریکا کی سرکشی اور جاہ طلبی سے ایٹمی معاہدے پر عمل درآمد کا سلسلہ بند نہیں ہوگا۔ 
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس