تاریخ شائع کریں۱۳ شهريور ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۷:۵۸
خبر کا کوڈ : 436368

ٹرمپ نے ایران کے خلائی شعبے اور فضائیہ کے ریسرچ سینٹ پر پابندی عائد کردی

امریکا نے ٹرمپ کے دور صدارت میں ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی پالیسی اپنا رکھی ہے
امریکی وزارت خزانہ نے ایک بار پھر اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف مخاصمانہ اقدامات جاری رکھتے ہوئے ایران کے خلائی شعبے ایرو اسپیس اور فضائیہ کے ریسرچ سینٹر اور تحقیقاتی مراکز پر پابندی عائد کردی ہے۔
ٹرمپ نے ایران کے خلائی شعبے اور فضائیہ کے ریسرچ سینٹ پر پابندی عائد کردی
امریکی وزارت خزانہ نے ایک بار پھر اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف مخاصمانہ اقدامات جاری رکھتے ہوئے ایران کے خلائی شعبے ایرو اسپیس اور فضائیہ کے ریسرچ سینٹر اور تحقیقاتی مراکز پر پابندی عائد کردی ہے۔
امریکا نے ٹرمپ کے دور صدارت میں ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی پالیسی اپنا رکھی ہے۔  ایران مخالف امریکا کی یہ پابندیاں مختلف پہلوؤں کی حامل ہیں۔ در اصل ٹرمپ انتظامیہ کوشش کر رہی ہے کہ ایران کی قومی طاقت کے سبھی پہلوؤں اور حصوں پر خواہ وہ سیاسی ہوں یا اقتصادی یا پھر صنعتی ٹیکنالوجی اور توانائی کے میدان سے متعلق ہوں سب پر پابندیاں عائد کردے۔
اس سلسلے میں امریکی وزارت خزانہ نے ایران کے ایرو اسپیس، خلائی پروگرام اور ایران کی فضائیہ کے تین مراکز پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔
امریکی وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ ایران کے ایرو اسپیس کے تحقیقاتی مرکز اور ایران اسپیس ایجنسی نیز ایران اسپیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ پرپابندیاں عائد کردی گئی ہیں اوران تینوں مراکز کے نام وزارت خزانہ کی بلیک لیسٹ میں شامل کرلئے گئے ہیں۔
امریکی وزارت خزانہ کے اس اقدام کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کے وزیرخارجہ پومپیؤ نے دعوی کیا ہے کہ امریکا نے ایران کے ایرو اسپیس اور فضائیہ کے اداروں کے خلاف پابندیاں عائد کردی ہیں کیونکہ تہران اپنے خلائی پروگرام سے بیلسٹک میزائل بنانے کے لئے استفادہ کرتا ہے۔ لیکن چونکہ ایران کا خلائی اور فضائی پروگرام خود ایران کا اپنا تیار کردہ پروگرام ہے اور ایرانی ماہرین ہی اس کو چلا رہے ہیں اسی لئے امریکا کے دباؤ اور مغربی ملکوں کی مخالفت کے باوجود یہ بدستور ترقی و پیشرفت کرتا جا رہا ہے۔
بنابریں امریکی پابندیاں اور دباؤ اس شعبے میں ایران کے عزم و ارادے کو متزلزل نہیں کرسکتا۔
چند روز قبل بھی امریکی وزارت خزانہ نے ایران کے پانچ شہریوں اور پانچ کمپنیوں پر یہ کہہ کے پابندیاں عائد کردی تھیں کہ یہ افراد اور کمپنیاں ایران کے میزائلی پروگرام سے جڑی ہوئی ہیں۔ امریکی وزارت خزانہ نے ایرانی آئل ٹینکر آدریان دریا اور اس کے کیپٹن پر بھی پابندی لگادی ہے۔ امریکی انتظامیہ ایٹمی معاہدے سے نکلنے کے بعد ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ پابندیاں عائد کرنے کی پالیسی کو اپنا کر یہ سمجھ رہی تھی کہ وہ ایران کو مذاکرات کی میز پر آنے کے لئے مجبور کرسکتی ہے اور تہران امریکی وزیرخارجہ کے بارہ نکاتی مطالبات اور شرائط پر مذاکرات کے لئے تیار ہوجائے گا لیکن ایران کی اپنے حق پسندانہ اور منطقی موقف پر استقامت و پامردی کی وجہ سے واشنگٹن پر یہ بات اچھی طرح واضح ہوگئی ہے کہ زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے والی ناکام پالیسی کا آئندہ بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ 
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس