تاریخ شائع کریں۸ شهريور ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۲:۱۹
خبر کا کوڈ : 435700

اگر ’’ایف 35‘ طیارے چاہیے تو روس میزائل معاہدہ منسوخ کرو

پہلے وہ روس سے ایس 400 خریداری کا معاہدہ منسوخ کرے۔ امریکی وزیرِ دفاع مارک ایسپر نے گزشتہ روز پنٹاگون میں منعقدہ ایک غیرمعمولی پریس کانفرنس می
امریکہ کا کہنا ہے کہ اگر ترکی کو ایف 35 لڑاکا طیارے خریدنے ہیں تو پہلے وہ روس سے ایس 400 خریداری کا معاہدہ منسوخ کرے
اگر ’’ایف 35‘ طیارے چاہیے تو روس میزائل معاہدہ منسوخ کرو
امریکہ کا کہنا ہے کہ اگر ترکی کو ایف 35 لڑاکا طیارے خریدنے ہیں تو پہلے وہ روس سے ایس 400 خریداری کا معاہدہ منسوخ کرے۔
امریکی وزیرِ دفاع  ب نے گزشتہ روز پنٹاگون میں منعقدہ ایک غیرمعمولی پریس کانفرنس میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران ایک بار پھر زور دیتے ہوئے کہا کہ ترکی کو روسی ساختہ فضائی دفاعی نظام ’’ایس 400‘‘ یا امریکی لڑاکا طیارے ’’ایف 35‘‘ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔
اس پریس کانفرنس پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے ترکی کے وزیرِ خارجہ میولوت کاووسوگلو نے کہا کہ ترکی کی پہلی ترجیح یہی ہوگی کہ اسے ایف 35 لڑاکا طیارے مل جائیں لیکن اگر ایسا نہ ہوسکا تو اس کے متبادل لڑاکا طیاروں کا جائزہ لیا جائے گا۔
واضح رہے کہ ایس 400 روسی ساختہ ایئر ڈیفنس سسٹم (فضائی دفاعی نظام) ہے جو سابق سوویت یونین کی اہم عسکری باقیات میں شامل ہے۔ پرانی ٹیکنالوجی ہونے کے باوجود، یہ نظام اتنا طاقتور ہے کہ 300 کلومیٹر کی بلندی تک پرواز کرتے ہوئے کسی بھی طیارے کو بہ آسانی تباہ کرسکتا ہے۔ دوسری جانب ’’جوائنٹ اسٹرائیک فائٹر‘‘ کہلانے والا جدید امریکی لڑاکا طیارہ ایف 35 ہے جو کثیرالمقاصد ہونے کے ساتھ ساتھ بہت مہنگا بھی ہے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس