تاریخ شائع کریں۴ شهريور ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۱:۲۴
خبر کا کوڈ : 435332

امریکہ داعش کو دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کررہا ہے

آزادی کی دوسری سالگرہ کی مناسبت سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہ
حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے داعش کے قبضے سے جرود عرسال کے علاقے کی آزادی کی دوسری سالگرہ کی مناسبت سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا
امریکہ داعش کو دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کررہا ہے
حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے دہشتگردوں کے خلاف استقامتی محاذ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے لبنانی فوج کے فیصلےکو دلیرانہ قرار دیتے ہوئے دہشت گردوں کی حمایت میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے کردار کی مذمت کی۔
حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے داعش کے قبضے سے جرود عرسال کے علاقے کی آزادی کی دوسری سالگرہ کی مناسبت سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس تقریب میں بڑے پیمانے پر موجودگی صیہونی حکومت کے گذشتہ رات کی جارحیتوں کا جواب ہے۔
 
سید حسن نصراللہ نے کہا کہ یہ کامیابیاں لبنان و فلسطین کے استقامتی جوانوں اور لبنانی و شامی فوج کی کامیابی ہے۔ سید حسن نصراللہ نے امریکا کے ذریعے دہشت گردوں کی حمایت و پشتپناہی کی مذمت کرتے ہوئے کہا جب داعش کے عناصر افغانستان میں محاصرے میں آجاتے ہیں تو امریکی طیارے ان کی مدد کو پہنچ جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکا آج عراق میں بھی داعش کو باقی رکھنے کی کوشش کر رہا ہے کیونکہ داعش کی شکست کے بعداب عراق میں یہ مطالبہ زور پکڑتا جارہا ہے کہ امریکا کو عراق سے نکل جانا چاہئے۔ سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ دہشتگردوں کے خلاف جدوجہد سب سے پہلے شام کی فوج اور استقامت کے مجاہدین کے کاندھوں پر تھی اور لبنان فوج کو مداخلت سے روک دیا گیا تھا۔حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے کہا کہ لیکن دہشتگردوں کے خلاف جنگ میں حصہ لینے کا لبنانی فوج کا فیصلہ دلیرانہ تھا۔
سید حسن نصراللہ نے جرود عرسال کی آزادی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم البقاع کے علاقے اور ملت لبنان و شام کو اس کامیابی کی مبارک باد پیش کرتے ہیں کیونکہ یہ جنگ اس جنگ کا اہم حصہ تھا جو شام میں جاری تھی۔ سید حسن نصراللہ نے کہا کہ یہ کامیابیاں لبنان و فلسطین کے استقامتی جوانوں اور لبنانی و شامی فوج کی کامیابی ہے۔ حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے کہا کہ جرود عرسال سے جبھۃ النصرہ کے دہشتگردوں کو نکال باہر کرنے کی جنگ استقامت کے جوانوں نے سر کی اور پھر اس جنگ کا آخری مرحلہ داعش دہشتگرد گروہ کے خلاف انجام پایا کہ جس میں لبنانی فوج نے حصہ لیا۔
 
حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے کہا کہ آج جرود عرسال کی مہم کے بارے میں بات کرنے والے بعض لوگ اس میں استقامت اور شامی فوج کے کردار کو نظر انداز کر رہے ہیں۔
سید حسن نصراللہ نے کہا کہ ہمیں امریکی کردار کی بات کرنا چاہئے جس نے لبنانی حکومت سے کہا تھا کہ جرود عرسال کی جنگ میں مداخلت نہ کرے اور حزب اللہ کو بھی اس جنگ میں شامل نہ ہونے دے۔
حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے کہا کہ ہمیں ان فریقوں کو نہیں بھولنا چاہئے جنھوں نے دہشتـگردوں کی حمایت کی ، انھیں ہتھیار دیئے، ان سے لولگائی اور سیاسی و صحافتی میدان میں ان کی حمایت و مدد کی۔ حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے کہا کہ ہمیں ان فریقوں کو بھی نہیں بھولنا چاہئے جنھوں نے دہشتگردوں کا مقابلہ کیا اور لبنان، شام اور دیگر علاقوں میں ان سے جنگ کی۔ سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ دہشتگردوں کے خلاف جدوجہد سب سے پہلے شام کی فوج اور استقامت کے مجاہدین کے کاندھوں پر تھی اور لبنان فوج کو مداخلت سے روک دیا گیا تھا۔
حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے کہا کہ دہشتگردوں کے خلاف جنگ میں حصہ لینے کا لبنانی فوج کا فیصلہ دلیرانہ تھا۔ حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے کہا کہ امریکہ نے داعش کو عراق میں کردار ادا کرنے کے لئے جنم دیا اور اس کی حفاظت کرتے تھے اور اسے استعمال کررہے ہیں اور داعش کا خطرہ اب بھی باقی ہے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس