تاریخ شائع کریں۱ شهريور ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۸:۵۸
خبر کا کوڈ : 434961

ایران پر دباؤ کا مقصد تہران کو واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات پر مجبور کرنا ہے

امریکی وزارت خارجہ نے اپنے اس موقف سے پسپائی اختیار کرلی ہے کہ ایران نے این پی ٹی معاہدے کی خلاف ورزی کی
امریکی وزارت خارجہ کے ایران ایکشن گروپ کے سربراہ برایان ہک نے ایک بار پھر ایران کے خلاف تمام تر دباؤ کا مقصد تہران کو واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات پر مجبور کرنا ہے
ایران پر دباؤ کا مقصد تہران کو واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات پر مجبور کرنا ہے
امریکی وزارت خارجہ نے اپنے اس موقف سے پسپائی اختیار کرلی ہے کہ ایران نے این پی ٹی معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس درمیان امریکی وزارت خارجہ کے ایران ایکشن گروپ کے سربراہ برایان ہک نے ایک بار پھر ایران کے خلاف تمام تر دباؤ کا مقصد تہران کو واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات پر مجبور کرنا ہے۔
 اے بی سی نیوز چینل کے مطابق امریکی وزارت خارجہ نے کافی کھینچا تانی کے بعد ایران کی جانب سے آرم کنٹرول معاہدوں کی پابندی سے متعلق کانگریس کو پیش کی جانے والی سالانہ رپورٹ میں کافی تبدیلیاں کی ہیں۔اس رپورٹ کے ابتدائی مسودے میں کہا گیا تھا کہ ایران نے ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے این پی ٹی کی دوسری اور تیسری شق کی خلاف ورزی کی ہے جس پر اس نے انیس سو ستّر میں دستخط کیے تھے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ کے معاملے پر اندرونی اختلافات اس قدر زیادہ تھے کہ اس کا حتمی مسودہ خود وائٹ ہاؤس کی سلامتی کونسل نے مسترد کردیا اور مذکورہ کونسل نے اس رپورٹ کی مخالفت میں باضابطہ بیان جاری کیا جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی ۔ یہ رپورٹ جس کا حتمی اور خفیہ مسودہ اب کانگریس کو ارسال کیا جاچکا ہے ، صرف اشارتا ایران کی جانب سے ممکنہ خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار اور اس حوالے سے صرف صیہونی حکومت کی پیش کردہ غیر مصدقہ معلومات کو دستاویز بنایا گیا ہے۔ دوسری جانب امریکی وزارت خارجہ کے ایران ایکشن گروپ کے سربراہ برایان ہک نے ایک بار پھر کہا ہے کہ ایران کے خلاف تمام تر دباؤ کا مقصد تہران کو واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کے لیے مجبور کر نا ہے۔ برایان ہک نے اپنے مضحکہ خیز دعوے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پابندیاں اور دباؤ آخر کار کارگر ثابت ہوگا اور ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات پر مجبور ہوجائے گا۔ادھر امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان مورگن اورٹیگس نے بھی اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ جب تک ایران مذاکرات کی میز پر نہیں آتا اس وقت تک تہران کے خلاف امریکی دباؤ کا سلسلہ جاری رہے گا۔امریکہ نے ایٹمی معاہدے سے نکلنے کے بعد سے ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی پر عملدرآمد شروع کردیا ہے۔امریکہ نے دعوی کیا ہے کہ ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ کا مقصد تہران کے ساتھ مذاکرات اور ایسے نئے ایٹمی معاہدے کا حصول ہے جس میں واشنگٹن کی دلچسپی کے تمام مسائل کو مد نظر رکھا گیا ہے۔ٹرمپ انتظامیہ ایسے وقت میں تہران کے ساتھ مذاکرات اور نئے معاہدے کے حصول کا راگ الاپ رہی ہے جب صدر ٹرمپ نے گزشتہ سال ایٹمی معاہدے سے غیر قانونی طور پر علیحدگی اختیار کرکے ایران کے خلاف تمام پابندیاں دوبارہ عائد کردی ہیں۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس