تاریخ شائع کریں۳۱ مرداد ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۹:۵۰
خبر کا کوڈ : 434903

خطے کی نجات کا راستہ مسلمانوں میں بیداری سے ممکن ہے

جس کو سنی و شیعہ دونوں علماء قبول کرتے ہیں۔ رہبر انقاب اسلامی نے مسلمانوں کے درمیان وحدت پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا
عالم اسلام کے تمام علماء اور دانشوروں سے ہماری درخواست ہے کہ اسلامی معاشروں میں وحدت کی فکر کو تقویت دیں کیوں یہ خطے کی بقاء کا راستہ ہے
خطے کی نجات کا راستہ مسلمانوں میں بیداری سے ممکن ہے
خطے کی نجات کا راستہ بیداری ہے
تقریب خبر رساں ایجنسی کے مطابق مسلمانوں میں وحدت کی اہمیت کو فروغ دینے کے عنوان سے علماء اور دانشمندوں کی آراء کو پیش کیا جارہا ہےکیوں کہ دشمن کے مقابلے میں وحدت اور اپنی صفوں میں نظم بہت ہی ضروری ہے اور یہ عالم اسلام کے دلسوز شخصیات کی دلی آرزو ہونے کے ساتھ ساتھ جمہوری اسلامی ایران کا بھی ہدف ہے ۔
لیکن بعض افراد گمان کرتے ہیں کہ وحدت کا مطلب یہ ہے کہ اپنے عقائد سے چشم پوشی کرکے دوسرے مذہب کو اختیار کریا جائے، جو کہ سراسر غلط اور گمراہ کن فکر ہے۔
اس مقدس ہدف کی بنیاد قرآن و سنت ہے جس میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ آس میں تفرقہ ایجاد نہ کریں، کیوں کہ مسلمانوں کے درمیان تفرقہ اللہ کی عنایات میں کمی کا باعث ہے اور مسلمانوں کی ذلت و رسوائی کا سب سے بڑا سبب بھی ہے۔
اگرمسلمانوں کے درمیان مشترکات پر ذرا بھی فکر کی جائے  تو معلوم ہوگا کہ ہمارے درمیان 90٪  اعتقادی اشتراکات پائے جاتے ہیں جس کو سنی و شیعہ دونوں علماء قبول کرتے ہیں۔
رہبر انقاب اسلامی نے مسلمانوں کے درمیان وحدت پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا، عالم اسلام کے تمام علماء اور دانشوروں سے ہماری درخواست ہے کہ اسلامی معاشروں میں وحدت کی فکر کو تقویت دیں کیوں یہ خطے کی بقاء کا راستہ ہے۔ خطے کی نجات کا راستہ مسلمان ممالک اور عوام میں وحدت کی فکر بیدار کرکے ہی ممکن ہے۔ اس فکر کی ترویج کے لیے علماء دانشور، شعراء ، ہنرمند افراد، اساتید اور معاشرے کے ہر شہبے کے افراد اپنی بھرپور توانائیاں صرف کریں۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس